SHARE

پٹنہ، 14 اپریل (اسٹاف رپورٹر)وزیر اعلی نتیش کمار نے آج شری کرشن میموریل ہال میں بھارت رتن ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر 126 ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقد تقریب شمع روشن کر افتتاح کیا. اس موقع پر وزیر اعلی اور تقریب میں موجود دیگر مہمانوں نے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر کی تصویر پر گلپوشی کرخراج عقیدت پیش کیا۔ منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ سب سے پہلے میں بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر کی 126 ویں یوم پیدائش پر انہیں سلام کرتاہوں۔ اور اس موقع پر آپ سب کونیک خواہشات دیتاہوں. انہوں نے کہا کہ جے ڈی یو کے تینوں سیلوں نے مل کر اتنا شاندار اہتمام کیا ہے، اس کے لیے میں سب کو خصوصی طور پر مبارکباد دیتاہوں۔وزیر اعلی نے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر کے احسان کو بھلایا نہیں جا سکتا ہے. انہوں نے زندگی بھر جدوجہد کی، اس وقت معاشرے میں چھوا چھوت کا غلبہ تھا. اس وقت بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر ایک دلت خاندان میں پیدا ہوکر بھی اعلی تعلیم حاصل کی. قدم قدم پر انہیں دشواریاںجھیلنی پڑی لیکن تمام مشکلات کو جھےلتے ہوئے انہوں نے اعلی تعلیم حاصل کی، ایک نہیں انیک موضوعات میں پی ایچ ڈی اور ڈلٹ وغیرہ کے اسناد حاصل کئے، صرف قانون کے شعبہمیں ہی نہیں بلکہ مختلف شعبوں میں انہوں نے خصوصی تعلیم حاصل کی، یہ نا قابل یقین مثال ہے ۔ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر نے سماج کو ایک نئی سمت دینے میں تعلیم کو استعمال کیا اور ہمیشہ دلت، دبا کچلا، محروم سماج ہے، جو اپنے ملک میں حاشئے پرکھڑے ہوئے ہےں، ان تمام طبقوں کو انہوں نے بیدار کیا ۔ ایک ہی نعرہ انہوں نے دیا ‘تعلیم یافتہ بنو، منظم رہو اور جدوجہد’ کرو. آج بھی یہ نعرہ قابل عمل ہے. جب تک لو گ تعلیم یافتہ نہیں بنیں گے، اس وقت تک اپنے حق کا علم نہےںہوگا. جب تک منظم نہیں ہوں گے، اپنی آواز بلند نہیں کر پائیں گے اور جب تک جدوجہد نہیں کریں گے، اس مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے. بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر کی زندگی ایک مثال ہے. بابا صاحب نے تعلیم حاصل کی بلند کو حاصل کیا ۔ آئین بنانے کے وقت تمام لیڈر تھے، پر تمام نے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر کو ڈرافٹ کمیٹی کا چیئرمین بنایا. اتنا ہی نہیں آئین ساز اسمبلی میں بحث کے دوران بابا صاحب نے ایک ایک چیز کو سب کے سامنے رکھا اس لئے انہیں آئین کا خالق کہا جاتا ہے۔ تعلیم یافتہ بنو، اس کے لیے سب کو پڑھنا چاہیے، منظم ہونا چاہیے تاکہ اپنی آواز کو بلند کر سکے اور ہمیشہ آگے بڑھنے کے لیے جدوجہد کرنا چاہیے. اس ملک میں سماجی انصاف کی بنیاد آئین کی وجہ سے ہی پڑی ہے. ہم لوگ اسی راستے پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں. ہم نے بہار میں اسی اصول کو اپنایا ہے، انصاف کے ساتھ ترقی. ایسا ترقی جس میں تمام لوگوںکی شرکت ہو. انہوں نے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے بھی کہا تھا کہ ترقی کا فائدہ سماج کے آخری پائدان پر کھڑے لوگوں کو ملے. اسے دیکھتے ہوئے ہی پالیسی کا تعین ہونا چاہیے، ہمارا ماررہنما اصول یہی ہے اور اسی کی بنیاد پر ہم لوگ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں. معاشرے کے جتنے بھی محروم طبقے کے لوگ ہیں، چاہے دلت سماج کے ہو یا مہادلت سماج کے ہوں، پسماندہ طبقے کے ہوں، یا انتہائی پسماندہ طبقے کے ہوں، خواتین کے لیے ہم نے خاص پالیسی بنائی ہے. خواتین کی ترقی کے لیے بہت کچھ کیا گیا ہے. انہوں نے کہا کہ اگر آدھی آبادی کی توانائی ترقی میں نہیں لگے گی تو دےش کی ترقی کیسے ہوگی۔ اسی طرح سے اقلیتوں کی ترقی کے لئے بھی خاص پالیسی بنائی گئی ہے. انہوں نے کہا کہ متعدد قدم اٹھائے گئے ہیں اس لئے آج ہر طبقے کے لوگ آگے آئے ہیں. ہمارے منصوبوں کا فائدہ سب کو ملے، اس کا خیال رکھا گیا ہے. انہوں نے کہا کہ عظیم اتحادکی حکومت نے سات نشچے اسکیموں کو لاگو کرنے کا فیصلہ کیا. سات نشچے منصوبے سب کے لئے ہیں چاہے ہر گھر نل کا پانی ہو، ہر گھر بجلی کنکشن، ہر گاو¿ں میں پکی گلی نالی ہو، یہ سبھوں کیلئے ہے. انہوں نے کہا کہ اگلے چار سال کے اندر پورے بہار میں ان منصوبوں کو مرحلہ وار نافذ کریں گے۔. انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کے لیے بھی ترجیحات مقرر کئے گئے ہےں ویسے وارڈ جہاں پرپسماندہ طبقہ کی زیادہ آبادی ہے، اسے ترجیح دی جائے گی. انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر ضلع میں جاکر ان منصوبوں کے نفاذ کو دیکھا ہے. ان منصوبوں کا فائدہ سب کو ملے گا.منعقد تقریب میں وزیر اعلی کو شال اور علامتی نشان پیش کر خیر مقدم کیا گیا ۔