SHARE

پورٹ آف اسپین، 03 اپریل (یواین آئی) اپنے گیند بازوں کی شاندار کارکردگی کے بعد احمد شہزاد (53) کی بہترین نصف سنچری کی بدولت پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو یہاں چوتھے اور آخری ٹوئنٹی 20 مقابلے میں چھ گیند باقی رہتے سات وکٹ سے شکست دیتے ہوئے سیریز 1۔3 سے اپنے نام کر لی۔ٹاس ہار کر پہلے بلے بازی کرنے اتری ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے ایک وقت نویں اوور تک ایک وکٹ پر 52 رن تھے لیکن اس کے بعد 16 ویں اوور تک آتے آتے 83 رن پر اس نے اپنے سات وکٹ گنوا دیئے ۔پاکستانی گیند بازوں کے سامنے میزبان ٹیم کے بلے باز کھل کر کھیل ہی نہیں پا رہے تھے اور مقررہ 20 اوور میں اس نے آٹھ وکٹ پر صرف 125رن کا معمولی ہدف دیا۔ویسٹ انڈیز کی جانب سے چیڈوک والٹن نے 31 گیندوں پر دو چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے سب سے زیادہ 40 رن بنائے جبکہ مارلون سیموئلز نے 22 رن بنائے ۔ نچلے آرڈر میں کپتان کارلوس بریتھویٹ نے 24 گیندوں پر دو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے تیزی سے رن جوڑنے کی کوشش کی لیکن ویسٹ انڈیز 20 اوورز میں محض 124 رنز ہی بنا سکی۔پورٹ آف اسپین میں کھیلے کھیلے گئے سیریز کے چوتھے اور آخری ٹی20 میچ میں ویسٹ انڈین اوپنرز نے ابتدا سے ہی جارحانہ انداز اپنایا اور اوپنرز نے ٹیم کو 27 رنز کا آغاز فراہم کیا۔گزشتہ میچ کے مین آف دی میچ ایون لوئس کو عماد وسیم نے آ¶ٹ کیا لیکن چیڈول والٹن نے جارحانہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔چار چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 40 رنز بنانے والے بلے باز کی اننگز کا خاتمہ شاداب خان نے شعیب ملک کے کیچ کی مدد سے کیا۔اس موقع پر پاکستانی بالرز خصوصاً حسن علی نے عمدہ بالنگ کی اور ویسٹ انڈین بالرز کو رنز بنانے کا موقع فراہم نہ کیا جس کے دبا¶ میں ویسٹ انڈین ٹیم یکے بعد دیگرے وکٹیں گنواتی رہی۔مارلن سیموئلز 22، جیسن محمد ایک، لینڈل سمنز ایک، کیرون پولارڈ چار اور جیسن ہولڈر بغیر کوئی رن بنائے آ¶ٹ ہوئے ۔83 رنز پر سات وکٹیں گرنے کے بعد ویسٹ انڈین ٹیم کی سنچری بھی مکمل ہوتی نظر نہیں آ رہی تھی لیکن کپتان کارلوس بریتھ ویٹ نے 37 رنز کی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو نسبتاً بہتر اسکور تک رسائی دلائی۔ویسٹ انڈیز کی ٹیم مقررہ اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 127 رنز بنائے ۔پاکستان کی جانب سے حسن علی نے دو میڈن اوورز سمیت 12 رنز کے عوض دو وکٹیں لیں جبکہ شاداب خان نے دو وکٹیں لے کر سیریز میں اپنی وکٹوں کی تعداد دس کر لی۔پاکستان نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو پاکستان نے 40 رنز کا مثبت آغاز فراہم کیا، کامران اکمل 20 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے ۔اس موقع پر احمد شہزاد کا ساتھ نبھانے بابر اعظم آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے ذمے دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 70 رنز کی شراکت قائم کی اور پاکستان کو فتح کی دہلیز تک پہنچا دیا۔احمد شہزاد نصف سنچری کی تکمیل کے فوراً بعد اپنی لیگ اسٹمپ محفوظ نہ رکھ سکے ، انہوں نے ایک چھکے اور چھ چوکوں کی مدد سے 53 رنز بنائے جبکہ بابر اعظم سے بھی ساتھی کھلاڑی کی جدائی برداشت نہ ہوسکی اور وہ 38 رنز بنانے کے بعد میدان بدر ہوئے ۔تاہم پاکستان نے کامیابی کے ساتھ ہدف کی جانب پیش قدمی جاری رکھی اور ایک اوور قبل ہی ہدف تک رسائی حاصل کر کے میچ کے ساتھ ساتھ سیریز بھی 3۔1 اپنے نام کر لی۔ہدف کا تعاقب کرنے اتری پاکستان نے مضبوط شروعات کرتے ہوئے پہلے وکٹ کے لئے 6.2 اوور میں 40 رن جوڑے ۔ کافی عرصے کے بعد ٹیم میں واپسی کرنے والے کامران اکمل نے 20 رنز بنائے ۔ وہ پہلے وکٹ کے طور پر سیموئلز کا شکار بنے ۔ اس کے بعد سلامی بلے باز احمد شہزاد نے تیسرے نمبر پرآئے بابر اعظم (38) کے ساتھ دوسرے وکٹ کے لئے 70 رن جوڑے ۔ احمد دوسرے وکٹ کے طور پر 110 کے اسکور پر آ¶ٹ ہوئے تو پاکستان کو جیت کے لیے صرف 15 رن درکار تھے ۔ شہزاد نے 45 گیندوں میں چھ چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے 53 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان کی یہ ساتویں ٹوئنٹی 20 نصف سنچری تھی۔بابر اعظم 115 کے اسکور پر آ¶ٹ ہوئے ۔ انہوں نے 36 گیندوں میں ایک چھکا اور ایک چوکا لگایا۔ شعیب ملک (ناٹ آ¶ٹ نو) اور سرفراز احمد (ناٹ آ¶ٹ تین) نے اس کے بعد جیت کی خانہ پری کرتے ہوئے ٹیم کو 19 ویں اوور میں سات وکٹ سے جیت دلا ئی۔پاکستان کو واحد شکست سیریز کے تیسرے میچ میں ملی تھی۔ویسٹ انڈیز کی جانب سے کیسرک ولیمز کو دو وکٹ ملے ۔ حسن علی کو مین آف دی میچ اور شاداب خان کو مین آف دی سیریز کا ایوارڈ ملا۔