SHARE
PATNA - SAMVADH BHAVAN MEIN LOCK SAMBADH KE DWARAN C . M . NITISH KUMAR

پٹنہ، 3 اپریل (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلی اور جنتا دل یو کے صدر نتیش کمار نے آج کہا ہے کہ کانگریس کو سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے آئندہ لوک سبھا انتخابات میں مرکز کی بی جے پی حکومت سے مقابلہ کے لئے ایک وسیع اتحاد بنانے کی پہل کرنی چاہئے ۔مسٹر کمار نے یہاں میڈیا کو بتایا کہ کانگریس نے حالیہ اسمبلی انتخابات سے پنجاب میں حکومت بنائی ہے جبکہ گوا اور منی پور میں وہ سب سے بڑی واحد پارٹی بن کر ابھری ہے ۔یہ الگ معاملہ ہے کہ بی جے پی گوا اور منی پور میں ہیر پھیر کرکے کسی بھی طریقہ سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔وزیراعلی نے کہا ”گرچہ سماج وادی پارٹی۔ کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی اوراس کی اتحادی پارٹیوں کو زیادہ ووٹ ملے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ان تین پارٹیوں نے ایک بڑا اتحاد بنالیا ہوتا تو یوپی کے نتائج کچھ اور ہوتے ۔مسٹر کمار نے کہا ہے کہ وہ پہلے بھی اترپردیش میں بی جے پی کو ہرانے کے لئے بہار کی طرز پر عظیم اتحاد کی وکالت کرتے رہے ہیں مگر یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔ یہاں تک کہ موجودہ سیاسی منظر میں بھی کانگریس کو آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کا مقابلہ کرنے کے لئے قومی سطح پر ایک بڑا اتحاد بنانے کی پہل کرنی چاہئے ۔وزیر اعلی نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات سے قبل مھاگٹھ بندھن کو عملی شکل دینے کے لئے بایاں محاذ کی تمام پارٹیاں بشمول کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) سمیت دیگر جماعتوں سے بھی بات چیت کرنی چاہئے کیونکہ اس سمت میں بایاں محاذ کا اہم کردار ہو سکتا ہے ۔مسٹر کمار نے سپریم کورٹ کے یکم اپریل سے تمام ہائی ویز کے ارد گرد شراب کی دکانوں کو بند کرنے کے فیصلے کی بابت پوچھے جانے پر کہا کہ مکمل شراب بندی لاگو کرنے کی سمت میں بہار نے پورے ملک کو راستہ دکھایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہائی ویز پر 500 میٹر کے دائرے میں شراب کی دکانوں کو ہٹانے کے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اگر ریاستی حکومتیں ہائی ویز پر کھلی ہوئی شراب کی دکانوں کو شہر یا گا¶ں میں لے جائے گی تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ ملک میں مکمل شراب بندی لاگو کرنے کی پہل ہونی چاہئے اور عوام اس کی حمایت میں ہیں۔وزیر اعلی نے کہا کہ شراب بندی اور اس کے بعد نوٹ بند¸ سے بہار کو آمدنی کا نقصان نہیں ہوا ہے اور ہماری مجموعی آمدنی کم و بیش پہلے کی طرح ہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے شراب پر لاگو ویٹ اور ایکسائز سے ریاست کو پانچ ہزار کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی تھی لیکن شراب بندی کے بعد آئے اعداد و شمار سے واضح ہو گیا ہے کہ حکومت کو جتنی آمدنی سال 2015-16 میں ہو ئی تھی اتنی ہی آمدنی سال 2016-17 میں بھی ہوئی ہے ، ابھی اس میں مزید اضافے کی ہی امید ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں مکمل شراب بندی نافذ کرنے کے بعد آمدنی میں پہلی بار کمی ضرور آتی ہے لیکن لوگوں نے شراب کی لت چھوٹنے سے 10 ہزار کروڑ روپے کی بچت ریڈی میڈ کپڑوں ، فرنیچر اور دیگر شعبوں میں خرچ کیا۔ اس سے آمدنی کی ابتدائی کمی کی تلافی کرنے میں مدد ملی۔مسٹر کمار نے اتر پردیش کی یوگی حکومت کے غیر قانونی مذبح کو بند کرنے کی کارروائی کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا، “بی جے پی کو عوامی فلاح کے دیگر اہم مسائل پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے .” انہوں نے کہا کہ بہار میں غیر قانونی بوچڑخانے نہ کے برابر ہیں۔. یہاں اس کے خلاف سال 1955 سے قانون نافذ ہے ۔ غیر قانونی بوچڑخانوں کو چلانے کی اجازت نہیں ہے ۔ یہ ایک غیر ضروری مسئلہ ہے ، جسے اٹھایا جا رہا ہے ۔ صحیح مسائل پر بحث ہونی چاہیے ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ملک میں روزگار کی کمی اور زراعت کا بحران جیسے اہم مسائل پر بحث ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسا کیاجاتا ہے لیکن یہ زیادہ دنوں تک نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسئلہ اٹھانا ہی ہے تو شراب بندی کا مسئلہ اٹھائیں کیونکہ کسی بھی مذہب میں شراب پینے کی اجازت نہیں ہے ۔ مسٹر کمار نے کہا کہ سال 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران بی جے پی نے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کی حکومت بنی تو بیرون ملک سے بلیک منی واپس لا کر ملک کے ہر غریب کے اکا¶نٹ میں 15 لاکھ روپے جمع کر دیا جائے گا لیکن حکومت کی تشکیل کو ڈھائی سال ہونے کے باوجود اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا، ” میں نے مرکز سے نوٹ بند¸ کی طرح بے نامی پراپرٹی ضبط کرنے کی مانگ کی تھی لیکن یہ پتہ نہیں چل پایا کہ ابھی تک کتنی گمنام املاک ضبط کی جا چکی ہیں.”