SHARE

یوگی کے وزیراعلیٰ بنتے ہی یوپی میں ایک خوف وہراس کا ماحول قائم ہے، جمہوریت دم توڑتی نظر آرہی ہے، اقلیتیں بشمول مسلمان کس مپرسی کی طرف دھکیلی جارہی ہیں، ان کی روزی اور روزگار سے کھلواڑ کیا جارہا ہے، جگہ جگہ چھاپے ماری کرکے ان کی دکانوں کو سیل کیا جارہا ہے، حالانکہ کوئی سرکاری فرمان نہیں ہے پھر بھی پولس یادو سے برہمن بن کر ہر جگہ مسلمانوں کو ستانے کے درپے ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یوپی میں صرف مسلمانوں کے ہی بوچڑ خانے ہیں لیکن زد پر صرف مسلمانوں کے ہی بوچڑ خانے ہیں، لائسنس ہونے کے باوجود ان کی دکانوں کو سیل کرکے انہیں بے روزگار کرنے کی مہم جاری ہے۔ ہر طرف خاموشی کا عالم ہے، کوئی مسلم رہنما اس معاملے میں لب کشائی کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کررہا ہے۔ سبھی خاموش ہیں، یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ نہیں بلکہ خوف اور ڈر کی علامت ہے۔ اگر چاہیں تو اپنے حقوق کے لئے لڑ سکتے ہیں، آواز ا±ٹھا سکتے ہیں، انقلاب برپا کرسکتے ہیں لیکن پتہ نہیں انہوں نے کیوں مون برت رکھ لیا ہے. کیا مقصد ہے اس کے پیچھے وہ تو وہی جانیں۔ اگر اسی طرح یوپی میں یہ سلسلہ دراز ہوتا رہا تو یہ آگ پورے ملک میں پہنچے گی ہم یہ سوچ کر خاموش ہیں کہ یوپی کے مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے لیکن ذرا سوچیں مرکز میں بھی یوپی کی حکومت ہے راجیہ سبھا و لوک سبھا میں اکثریت حاصل ہے اسی لئے اب وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ہمیں جمہوریت بچانے کی خاطر، اپنے حقوق کی خاطر، آگے آنا ہوگا، خاموشی ہمارے لیے زیب نہیں دیتی۔ ابھی تو رام مندر کی تعمیر، طلاق ثلاثہ پر پابندی باقی ہے، اور وہ عنقریب اس ضمن میں پیش قدمی کریں گے، رام مندر بنانے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا کیوں کہ عدلیہ نے بھی اپنا دامن جھاڑ لیا ہے۔ (بھلے سے رام مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کی بابری مسجد سے سبکدوشی کے بعد ملک کے حالات بگڑیں، اللہ نہ کرے ایسا ہو لیکن اگر ایسا ہوا تو نقصان صرف مسلمانوں کا ہی ہوگا اور بی جے پی ہمیشہ فائدہ میں رہے گی کیوں کہ ان کی فطرت میں ہے فساد کرو ہندو متحد ہوں گے، یہ لوگ انگریزوں کی چال پر چل رہے ہیں نفرت کے بیج بوو¿، اور حکومت کرو) اور طلاق ثلاثہ پرپورے ملک میں نہ سہی لیکن یوپی میں ضرور پابندی عائد کردی جائے گی اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں گے۔ مسلم تنظیمیں، اکابرین ملت قائد جمہوریت جلسے جلوس ضرور کریں، قرادار د ضرور پاس کریں، اعلامیہ ضرور شائع کریں لیکن اس اعلامیے کے نفاذ کی بھی کوشش کریں، اس قرار داد پر عمل کروانے کے لئے بھی کوشاں ہوں، جلسے جلوس میں مہنت یوگی کو ضرور بلائیں اس سے یقینا یکجہتی کا درس ملتا ہے لیکن محض یہیں تک نہ بیٹھیں آگے بڑھیں ان مہنتوں اور یوگیوں کے ذریعہ برادران وطن میں جو خلیج پیدا ہوگئی ہے اسے پاٹنے کا کام کریں۔ اقلیتیں بشمول مسلمان کس مپرسی کی طرف دھکیلی جارہی ہیں، ان کی روزی اور روزگار سے کھلواڑ کیا جارہا ہے، جگہ جگہ چھاپے ماری کرکے ان کی دکانوں کو سیل کیا جارہا ہے، حالانکہ کوئی سرکاری فرمان نہیں ہے پھر بھی پولس یادو سے برہمن بن کر ہر جگہ مسلمانوں کو ستانے کے درپے ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یوپی میں صرف مسلمانوں کے ہی بوچڑ خانے ہیں لیکن زد پر صرف مسلمانوں کے ہی بوچڑ خانے ہیں، لائسنس ہونے کے باوجود ان کی دکانوں کو سیل کرکے انہیں بے روزگار کرنے کی مہم جاری ہے۔ ہر طرف خاموشی کا عالم ہے، کوئی مسلم رہنما اس معاملے میں لب کشائی کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کررہا ہے۔ سبھی خاموش ہیں، یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ نہیں بلکہ خوف اور ڈر کی علامت ہے۔ اگر چاہیں تو اپنے حقوق کے لئے لڑ سکتے ہیں، آواز ا±ٹھا سکتے ہیں، انقلاب برپا کرسکتے ہیں لیکن پتہ نہیں انہوں نے کیوں مون برت رکھ لیا ہے. کیا مقصد ہے اس کے پیچھے وہ تو وہی جانیں۔ اگر اسی طرح یوپی میں یہ سلسلہ دراز ہوتا رہا تو یہ آگ پورے ملک میں پہنچے گی ہم یہ سوچ کر خاموش ہیں کہ یوپی کے مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے لیکن ذرا سوچیں مرکز میں بھی یوپی کی حکومت ہے راجیہ سبھا و لوک سبھا میں اکثریت حاصل ہے اسی لئے اب وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ہمیں جمہوریت بچانے کی خاطر، اپنے حقوق کی خاطر، آگے آنا ہوگا، خاموشی ہمارے لیے زیب نہیں دیتی۔ ابھی تو رام مندر کی تعمیر، طلاق ثلاثہ پر پابندی باقی ہے، اور وہ عنقریب اس ضمن میں پیش قدمی کریں گے، رام مندر بنانے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا کیوں کہ عدلیہ نے بھی اپنا دامن جھاڑ لیا ہے۔ (بھلے سے رام مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کی بابری مسجد سے سبکدوشی کے بعد ملک کے حالات بگڑیں، اللہ نہ کرے ایسا ہو لیکن اگر ایسا ہوا تو نقصان صرف مسلمانوں کا ہی ہوگا اور بی جے پی ہمیشہ فائدہ میں رہے گی کیوں کہ ان کی فطرت میں ہے فساد کرو ہندو متحد ہوں گے، یہ لوگ انگریزوں کی چال پر چل رہے ہیں نفرت کے بیج بوو¿، اور حکومت کرو) اور طلاق ثلاثہ پرپورے ملک میں نہ سہی لیکن یوپی میں ضرور پابندی عائد کردی جائے گی اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں گے۔ مسلم تنظیمیں، اکابرین ملت قائد جمہوریت جلسے جلوس ضرور کریں، قرادار د ضرور پاس کریں، اعلامیہ ضرور شائع کریں لیکن اس اعلامیے کے نفاذ کی بھی کوشش کریں، اس قرار داد پر عمل کروانے کے لئے بھی کوشاں ہوں، جلسے جلوس میں مہنت یوگی کو ضرور بلائیں اس سے یقینا یکجہتی کا درس ملتا ہے لیکن محض یہیں تک نہ بیٹھیں آگے بڑھیں ان مہنتوں اور یوگیوں کے ذریعہ برادران وطن میں جو خلیج پیدا ہوگئی ہے اسے پاٹنے کا کام کریں۔