SHARE

دنیا میں سب سے زیادہ جن مسائل میں لوگ مبتلا ہیں اس میں استحصال ایک عام مسئلہ ہے۔وہیں یہ بات بھی مضحکہ خیز ہے کہ استحصال کرنے والے عموماً خود کو عدل و انصاف کے قیام کا علمبردار سمجھتے ہیں۔یا اگر وہ حق کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ،تو عین ممکن ہے کہ ان کی جانب سے ہونے والے مظالم کا جب تذکرہ کیا جائے تو وہ اسے قبول کر لیں۔لیکن دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ بظاہر وہ اسے قبول نہیں کرتے ہیں،مظالم جو ان سے سرزد ہوئے ہیں،اس کے جواز فراہم کرتے ہیں،حق کو چھپاتے ہیں اور ناحق کو عام کرتے ہیں،اس سب کے باوجود ،مظالم جو ان سے سرزد ہوئے ہیں،جب جب انہیں یاد آتے ہوں گے یا دوسرے اس جانب متوجہ کرتے ہوں گے ،تو اس موقع پراندورن خانہ وہ اپنے دل کو کسی طرح مطمئن نہیں کرپاتے ہوں گے۔موجودہ وقت میں دنیا کے جتنے قوانین ہیںانہوں نے کم ازکم استحصال کے خلاف دفعات فراہم کی ہیں۔جن کی روشنی میں مظلوم ،مجرمین کے خلاف اپنی آواز بلند کرسکتے ہیں۔اور یہ آواز بعض اوقات اس قدر قوی ہوجاتی ہے کہ مجرمین کوان کے کئے گئے ظلم کی سزا دی جائے۔برخلاف اس کے مظلومین کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے ،کہ ظلم جو کسی بھی سطح پر ہو رہا ہے، اور وہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں،عین ممکن ہے کہ اس کا دائرہ وسیع ہواور وہ خاموش طبعیتیں اس کی لپیٹ میں آجائیں۔یہی بات اللہ کے رسول نے بھی فرمائی ہے کہ اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ہندوستان کے آئین کی خصوصاً اس ہندوستان کی جو آئین کے روشنی میں ایک تصور پیش کرتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ یہ تصور ہی اس ملک کی سا لمیت اور یکجہتی کا مظہر ہے۔برخلاف اس کے ہندوستان میں جس قدر بڑے پیمانہ پر افکار ونظریات اور مذہب و ثقافت پر عمل پیرا افراد موجود ہے،اُس میں یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ سب مل کر رہ سکیں۔لیکن آئین ،ہندوستان کا جو تصور پیش کرتا ہے،اس تصور میں لچک ہے اور یہ گنجائش ہے کہ مختلف نظریات کے حاملین اور مختلف مذاہب و ثقافت پر عمل پیرا افراد مل جل کر رہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے شہری آزادی سے قبل اور بعد مل جل کر رہتے آئے ہیں۔تمام لوگوں نے ہندوستان کو اپنا وطن عزیز سمجھا ہے۔لہذا یہ تمام ملک میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کے پابند عہد ہیں اور لگاتار اس کی مثال پیش کرتے ہیں۔آئیے ایک بار پھر گزشتہ سے پیوستہ ہوکرآئین کی روشنی میں تصور ہند کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہندوستان کے آئین نے استحصال کے خلاف حق کو بہت نمایاں طور پر پیش کیا ہے۔انسانوں کی تجارت اور جبری خدمت کی ممانعت کے تعلق سے دفعہ۳۲میں کہا گہا ہے کہ:(۱)انسانوں کی تجارت اور بیگار اور دوسرے ایسے ہی اقسام کی جبری خدمت کی ممانعت کی جاتی ہے اور اس حکم کی کوئی خلاف ورزی جرم ہوگی جس کی قانون کے مطابق سزا دی جاسکتی ہے۔(۲) اس دفعہ کا کوئی امر مملکت کے اغراض عامہ کے لیے جبری خدمت لینے میں مانع نہ ہوگا اور ایسی خدمت لینے میں مملکت محض مذہب۔نسل۔ذات یا طبقہ یا ان میں سے کسی کی بنا پر امتیاز نہ برتے گی۔اسی طرح بچوں کو کارخانوں وغیرہ میں مامور کرنے کی ممانعتدفعہ۴۲میں درج ہے۔دفعہ کہتی ہے :چودہ سال سے کم عمر کا کوئی بچہ کسی کا رخانہ یا کان میں کام کرنے کے لیے مامور نہیں کیا جاے گا اور نہ کسی دوسرے خطرناک کام پر لگایا جائے گا۔نیز مذہب کی آزادی کا حق ،آزدی ضمیر اور مذہب کو قبول کرنے اور اس کی پیروی و تبلیغ کی آزادی کی تفصیلات دفعہ۵۲ میں بیان کی گئی ہے۔جس میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ:(۱) تمام اشخاص کو آزادی ضمیر اور آزادی سے مذہب قبول کرنے، اس کی پیروی اور اس کی تبلیغ کرنے کا مساوی حق ہے بشرطیکہ امن عامہ ، اخلاق عامہ، صحت عامہ اور اس حصہ کی دیگر توضیعات متاثر نہ ہوں۔(۲) اس دفعہ کا کوئی امر کسی ایسے موجودہ قانون کے نفاذ کو متاثر نہ کرے گا اور نہ وہ ایسے قانون کے بنانے میں مملکت کا مانع ہوگا جو:(الف) کسی معاشی۔مالیاتی۔سیاسی یا دیگر غیر مذہبی سرگرمی کو جس کا تعلق مذہبی عمل سے ہوسکتا ہو منضبط کرے یا اس پر پابندی لگائے۔(ب) سماجی بہبود اور سدھار کے لیے ہندووں کے عوامی نوعیت کے مذہبی اداروں کو ہندووں کے تمام طبقوں اور فرقوں کے لیے کھول دینے کے بارے میں توضیع کرے۔تشریح:a) کرپان باندھنا اور اس کو ساتھ رکھنا سکھ مذہب کے عقیدہ میں شامل ہونا متصور ہوگا۔تشریح:b) فقرہ (۲) کے ذیلی فقرہ (ب) میں ہندووں کے حوالہ کی یہ تعبیر کی جائے گی کہ اس میں سکھ، جین یا بدھ مذہب کے پیرﺅں کا حوالہ شامل ہے اور ہندو مذہبی اداروں کے حوالے کی حسب تعبیر کی جائے گی۔مذہبی امور کے انتظامی کی آزادی کے تعلق سے دفعہ۶۲کہتی ہے کہ یہ دفعہ اس شرط کے ساتھ کے امن عامہ، اخلاق عامہ اور صحت عامہ متاثر نہ ہوں ہر ایک مذہبی فرقے یا اس کے کسی طبقے کو حق ہوگا:(الف)مذہبی اور فلاحی اغراض کے لیے ادارے قائم کرنے اور چلانے کا۔(ب) اپنے مذہبی امور کا انتظام خود کرنے کا۔(ج) منقولہ اور غیر منقولہ جائداد کے مالک ہونے اور اس کو حاصل کرنے کا ؛ اور(د) ایسی جائداد کا قانو ن کے بموجب انتظام کرنے کا۔اسی طرح کسی خاص مذہب کے فروغ کے لیے ٹیکس ادا کرنے کے بارے میں آزادی کا تذکرہ دفعہ۷۲ میں کیاگیاہے :کسی شخص کو ایسے ٹیکسوں کے ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا جن کی آمدنی کسی خاص مذہب یا مذہبی فرقہ کی ترقی یا اس کو قائم رکھنے کے مصارف ادا کرنے کے لیے صراحتاً تصرف کی جائے۔ساتھ ہی بعض تعلیمی اداروں میں مذہبی تعلیم پانے یا مذہبی عبادات کے بارے میں آزادی کا تذکرہ دفعہ۸۲میں ہے۔یہ دفعہ کہتی ہے :(۱) کسی ایسے تعلیمی ادارہ میں جو بالکلیہ مملکتی فنڈ سے چلایا جاتا ہو کوئی مذہبی تعلیم نہیں دی جائے گی۔(۲) فقرہ (۱) کے کسی امر کا اطلاق ایسے تعلیمی ادارہ پر نہیں ہوگا جس کا انتظام مملکت کرتی ہو لیکن جو کسی ایسے وقف یا ٹرسٹ کے تحت قائم کیا گیا ہو جو ایسے ادارہ میں مذہبی تعلیم دینا لازم قرار دے۔(۳) کسی ایسے شخص پر جو کسی ایسے تعلیمی ادارہ میں شریک ہو جو مملکت کا مسلمہ ہو یا جس کو مملکتی فنڈ سے امداد ملتی ہو لازم نہ ہوگا کہ کسی ایسی مذہبی تعلیم میں حصہ لے جو ایسے ادارے میں دی جائے یا ایسی مذہبی عبادت میں شریک ہو جو ایسے ادارہ میں یا اس سے ملحقہ عمارت و اراضی میں کی جائے بجز اس کے کہ ایسے شخص نے یا اگر وہ نابالغ ہو تو اس کے ولی نے اس کے لیے اپنی رضا مندی دی ہو۔ثقافتی اور تعلیمی حقوق:اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کا تذکرہ دفعہ۹۲ہے۔جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے علاقہ میں یا اس کے کسی حصہ میں رہنے والے شہریوں کے کسی طبقہ کو جس کی اپنی الگ جداگانہ زبان ، رسم الخط یا ثقافت ہو اس کو محفوظ رکھنے کا حق ہوگا۔کسی شہری کو ایسے تعلیمی ادارہ میں جس کو مملکت چلاتی ہو یا جس کو مملکتی فنڈ سے امداد ملتی ہو داخلہ دینے سے محض مذہب۔نسل۔ذات۔زبان یا ان میں سے کسی کی بنا پر انکار نہیں کیا جائے گا۔