SHARE

گائے کے تعلق سے مسلم حکمرانوں اور مذہبی رہنماﺅں کا رویہ جھجک سے بھرا ہوا تھا۔وہ کبھی اعلی ذات کے ہندوو¿ں کے جذبات کا احترام کرنے کو کہتے تو کبھی اپنے ثقافتی حقوق پر زور دینے کی بات کرتے۔ مغل بادشاہوں کے دور میں راج دربار میں جینوں کا دخل تھا، تو کچھ خاص خاص موقعوں پر گوہتیا پر پابندی رہی۔مغل بادشاہ بابر نے گوکشی پر پابندی لگادی تھی اور اپنی وصیت میں اپنے بیٹے ہمایوں سے بھی اس پابندی کو جاری رکھنے کو کہا تھا۔ کم از کم تین دیگر مغل بادشاہوں اکبر، جہانگیر اور احمد شاہ نے بھی گائے کے ذبیحے پر پابندی لگائے رکھا۔ میسور کے نواب حےدرعلی کی ریاست میں گائے کو ذبح کرنے والے کے ہاتھ کاٹ دیے جاتے تھے۔تحریک عدم تعاون اور تحریک خلافت کے دوران گوکشی تقریبا بند ہو گئی تھی۔مولانا شوکت علی اور مولانا محمد علی جوہر نے گائے ذبیحے کے خلاف تحریک چلائی تھی۔ مہاتما گاندھی نے ہندوو¿ں سے خلافت تحریک کی حمایت کرنے کی جو اپیل کی تھی، اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کے بدلے ،مسلمان لیڈر گوکشی کے خلاف پرچار کریں گے۔اس سے ملک میں بے مثال ہندو مسلم اتحاد قائم ہوا اور پورے ملک نے ایک ہوکر عدم تشدد کے راستے سے برطانوی سلطنت کے خلاف مورچہ سنبھالا۔جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ملک کی اکثریت کے جذبات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بیف پر پابندی لگانا چاہئے تو آپ کو انھیں میں سے ایک چوتھائی کے جذبات کو ٹھیس بھی پہنچا رہے ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے طبقے کے کھانے پینے میں آپ دخل دے رہے ہیں۔ ملک میں دلت بیف کھاتے ہیں اور کھلے عام کھاتے ہیں۔ قبائلی کھاتے ہیں۔جنوبی ہند کی ریاست کیرالہ میں برہمنوں کو چھوڑ کر باقی سب بیف کھاتے ہیں۔ تمل ناڈو میں بھی ایک بڑا طبقہ ہے جو بیف کھاتاہے۔کچھ قبائلی کمیونٹیز میں آج بھی تہوار پر گائے کی بلی چڑھائی جاتی ہے۔ کچھ دلت فرقوں کو بھی گومانس سے گریز نہیں ہے۔انڈونیشیا کے بالی جزائر کے ہندو آج بھی گوماس کھاتے ہیں۔ہندوو¿ں کے گومانس کھانے پر مکمل پابندی، آٹھویں صدی عیسوی میں لگائی گئی، جب کچھ مذہبی فلسفوں کے اثرات معاشرے پر پڑنے لگے۔پروفیسر ڈی این جھا کے مطابق بھارت میں گوشت کھانے کی روایت بہت پرانی ہے۔ ویدمیں جہا ں یگیہ پر بحث کی گئی ہے، وہیںگائے کی بلی کی بحث بھی موجود ہے۔ قربانی دینے کے ساتھ گوشت کھانے کی بات بھی ہے۔ یہ روایت بہت وقت تک جاری رہی۔ ان نصوص میں ذکر کیا گیا ہے کہ کسی بادشاہ یا کسی معزز شخص کی آمد پر قربانی دی جاتی تھی اور انہیں گوشت پیش کیا جاتا تھا۔ گائے کی قربانی دینے کی رسم کو ”مدھوپرک“ کہا جاتا تھا۔گوشت کھانے کی روایت تو اس ملک میں رہی ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ بہت سے فرقے (بودھ، جین، ویشنو وغیرہ) ایسے رہے جنہوں نے ذبح کی مخالفت کی۔ بلی کی رسم پر ان کا احتجاج کسی خاص جانور کے لئے نہ ہوکر تمام جانوروں کے لئے تھا۔تاریخ بتاتی ہے کہ یگیہ ہی نہیں بلکہ شادی کی رسم میں یا پھر نئے گھرمیں داخلہ کے وقت بھی گوشت کھانے کھلانے کا چلن عام تھا۔ یہ گپت عہد سے پہلے کی بات ہے۔گوہتیا پر کبھی پابندی نہیں رہی لیکن پانچویں صدی سے چھٹی صدی کے آس پاس چھوٹی چھوٹی ریاستیں بننے لگےں اور زمین عطیہ دینے کا چلن شروع ہوا۔اسی وجہ سے کاشت کے لئے جانوروں کی اہمیت بڑھتی گئی۔ خاص کر گائے کی اہمیت بڑھی۔ اس کے بعد دھر م شاستروںمیں ذکر آنے لگا کہ گائے کو نہیں مارنا چاہئے۔آہستہ آہستہ گائے کو نہ مارنا ایک نظریہ بن گیا۔ہندوستانی سماج میں گائے کے لئے خصوصی عزت کا احساس زراعت کی ترقی کے ساتھ بڑھتا چلا گیا۔ زراعت کے پھیلانے میں گائے، بیل، بھینس وغیرہ کا تعاون رہا ہے۔ دودھ دینے والے جانوروں کی اہمیت دوسرے گھریلو اہمیت کے جانوروں کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن ان کا سیاست کے لئے استعمال ماضی میں کبھی بھی، آج کی طرح نہیں ہوا۔ سچ تویہ ہے کہ گائے پر سیاست کی ابتدا 19 ویں صدی میں ہوئی۔دیانند سرسوتی نے ”گورکشا سمیتی“ بنائی اور گائے کو بچانے کے نام پر تحریک بھی چلائی تھی۔ اس تحریک کے چلتے مسلمانوں کی شناخت گائے کو قتل کرنے اور گوشت کھانے والے کے طور پر قائم ہو گئی۔اسی کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی بھی شروع ہو گئی۔ اس سے پہلے فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوتے تھے۔ یہ بھی پروپیگنڈہ کیا گیا کہ مغلوں کی ہندوستان آمد کے بعد سے ہی گوشت کھانے کی روایت شروع ہوئی ہے،حالانکہ یہ ایک گمراہ کن حقیقت ہے۔اسی طرح لوگوں نے یہ غلط تاثر بنا رکھا ہے کہ ہندوستان میں صرف مسلمان ہی ہیں جو گوشت کھاتے ہیں۔یہ بالکل ہی بے بنیاد سوچ ہے کیونکہ اس کی کوئی بھی تاریخی بنیاد نہیں ہے۔ویدک ادب میں ایسی کئی مثالیں ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس دور میں بھی گوشت کا استعمال کیا جاتا تھا۔اعلی ذاتوں کے ہندوو¿ں اور ہندو قوم پرست تنظیموں کارویہ گائے کے تئیں کچھ خاص رہاہے۔وہ اسے ہندو راشٹر کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ کبھی وہ گائے کے لئے بہت شرددھاوان ہو جاتے ہیں تو کبھی ان کا احترام اچانک غائب ہوجاتاہے۔ حالیہ چند سالوں میں، ہندو قوم پرستوں نے گائے کو ایک مقدس علامت کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ سناتن دھرم کی مذہبی کتابیں ایسا کہتی ہیں، بلکہ اس لئے کہ گائے، ہندوو¿ں کو مشتعل کرنے اور مسلمانوں کوکھلنایک کے طور پر پیش کرنے کے لئے انتہائی مفید ہے۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ انکشاف کانگریس لیڈردگوجے سنگھ کرچکے ہےں کہ آرایس ایس لیڈر ویرساورکر بوڑھی گایوں کے ذبیحہ کے حق میں تھے۔