SHARE

لیون، 02 اپریل (یو این آئی ) ہندستانی ڈیوس کپ ٹیم میں ریزرو کھلاڑی کے طور پر رکھے گئے تجربہ کار لینڈر پیس نے لیون چیلنجرز ٹینس ٹورنامنٹ کے طور پر 2017 کا پہلا ڈبلز ٹائٹل جیتنے کے ساتھ ہی ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ 43 سال کی عمر میں بھی وہ اپنے کھیل کی سب سے بلند سطح پر ہیں۔شاندار کارکردگی جاری رکھتے ہوئے پیس نے کینیڈا کے اپنے ساتھی عادل شمس الدین کے ساتھ یہاں اتوار کو مرد ڈبلز فائنل میں سوئٹزرلینڈ کے لوکا مارگارول¸ اور برازیل کارو جمپیر¸ کی جوڑی کو مسلسل سیٹوں میں 6۔1 ،6۔4 سے شکست دے کر 75 ہزار ڈالر کی انعامی رقم والا ہارڈ کورٹ ٹورنامنٹ جیت لیا۔پیس کا یہ سال 2017 کا پہلا خطاب ہے جبکہ کیریئر میں یہ ان کا 20 واں چیلنجرز خطاب ہے ۔43 سالہ پیس نے اپنا آخری خطاب 2015 میں جنوبی افریقہ کے راوین کلاسین کے ساتھ آکلینڈ میں جیتا تھا۔پیس کو سات سے نو اپریل تک ازبکستان کے خلاف ہونے والے ڈیوس کپ مقابلے میں ریزرو کے طور پر رکھا گیا ہے اور ابھی یہ طے نہیں ہے کہ ڈبلز میچ میں پیس اور روہن بوپنا کے درمیان کسے کھیلنے کا موقع ملے گا۔لیون چیلنجرز سے پہلے تک پیس اس سیزن میں ابھی تک کسی بھی ٹورنامنٹ کے فائنل میں بھی جگہ نہیں بنا سکے تھے ۔وہ اس سے پہلے دبئی چمپئن شپ اور ڈیلرے بیچ اوپن میں صرف سیمی فائنل تک پہنچے تھے ۔لیکن لیون میں پیس اور ان کے جوڑی دار شمس الدین نے کمال کا کھیل دکھایا جنہیں ٹورنامنٹ میں تیسری سیڈ دی گئی تھی۔پیس نے آخری بار سال 2015 میں آکلینڈ کلاسک کے طور پر اپنااے ٹی پی ٹور خطاب جیتا تھا۔تجربہ کار ہندستانی ٹینس کھلاڑی پیس نے سال 2013 میں رادیک استپنک کے ساتھ یو ایس اوپن کے طور پر اپنا آخری مرد ڈبلز گرینڈ سلیم خطاب جیتا تھا۔اگرچہ مکسڈ ڈبلز میں سوئٹزرلینڈ کی مارٹینا ھنگس کے ساتھ انہوں نے تین گرینڈ سلیم جیتے ہیں۔