SHARE

نئی دہلی ۔ 31 مارچ (ےو اےن اےن)ملک کی وسطی اور مغربی ریاستوں میں گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ لوگ مرنا شروع ہو گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ریاست مہاراشٹر میں حکام نے شدید گرمی سے دو افراد کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ڈیڑھ سو سے زیادہ سرکاری ہسپتالوں کو ہیٹ سڑوک کے مریضوں کے لیے علیحدہ وارڈز قائم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ایک شخص ضلع اورنگ آباد اور دوسرا ضلع سولاپور میں ہلاک ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق شمالی ریاستیں بھی ان دنوں شدید گرمی کا سامنا کر رہی ہیں۔مہاراشٹر کے ساتھ ساتھ اتر پردیش، گجرات، اڑیسہ، ساﺅتھ ہریانہ، جھاڑکھنڈ، چھتیس گڑھ اور مغربی بنگال میں ان دنوں درجہ حرارت معمول سے سات ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ چل رہا ہے۔مہاراشٹر کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 46.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔اس سے قبل مارچ میں ریاست مہاراشٹر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 1946ءمیں 43.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق کئی ریاستوں میں مارچ کے دوران گرمی کے گذشتہ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔