SHARE

مسلم پرسنل لاءہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی امتیازات اور اسلامی اقدار کی حیات وزیست کے مسئلہ سے وابستہ ہے کیونکہ دنیا کی جن قوموں نے اپنے تہذیبی اور معاشرتی امتیازات کو کھودیا یا اپنے مذہب سے رشتہ منقطع کرلیا وہ دیر سویر مٹادی گئیں اور آج دنیا کے نقشے پر ان کا وجود بھی نظر نہیں آتا، جس ملک میںمختلف مذاہب اور طرز فکر کے ماننے والے موجود ہوں وہاں کسی قوم یا اقلیت کے پرسنل لا کو ختم کردینے کا مطلب یہی ہوگا کہ رفتہ رفتہ اس جماعت کو معاشرتی یکسانیت، ایک دوسرے میں اتنا مدغم کردے کہ وہ اکثریت میں پوری طرح ضم ہوکر رہ جائے، حالانکہ اسلام کا مسئلہ دوسرے مذاہب اور گروہوں سے قطعی جدا ہے، دوسرے مذاہب میں بیشتر مذہبی قوانین کی بنیادیں اس رسم ورواج پر مبنی ہیں جو تبدیل ہوسکتی ہیں لیکن اسلامی قانون جس کی بنیاد وحی الٰہی اور کتاب وسنت ہے وہ ہمیشہ کیلئے اور ناقابل ترمیم ہے اور اس میں کسی طرح کی تبدیلی لانا گویا ہندوستان سے اسلامی تہذیب وتمدن کو اکھاڑ پھینکنے کے مترادف ہوگا۔ جس کی مثال قرطبہ واسبیلیہ، سمر قند وبخاریٰ اور روسی ترکستان میں آج بھی نظر آتی ہے جہاں مسلمانوں کو ان کی تہذیبی اور مذہبی شناخت سے محروم کرکے تقریباً مٹادیا گیا ہے۔اس پس منظر میں ہندوستان کے مسلمان اگر اپنے اس پرسنل لا کو باقی رکھنے پر زور دے رہے ہیں جس کو کہ انگریزوں نے کبھی نہیں چھیڑا اور دستور ساز اسمبلی نے بھی دیگر اقلیتوں کے ساتھ اس کی آئینی حیثیت برقرار رکھی تو کیا غلط ہے؟ حالانکہ دستور ہند کی ہدایتی دفعات کے جزو ۴۴ میں مشترکہ معاشرتی قوانین کا تذکرہ کرکے مسلم پرسنل لا کے خلاف برادران وطن کے ذہن کو متوجہ رکھنے کی جو راہ پیدا کی گئی ہے اسی سے حوصلہ پاکر بعض حلقے جن میں عدلیہ بھی شامل ہے مسلم پرسنل لا کے خاتمہ کے لئے سرگرم ہیں اور گذشتہ کچھ عرصہ سے تو ایسے عناصر کی کوششیں اس حد تک بڑھ گئیں ہیں کہ وہ مسلم پرسنل لا کو ایک غیر انسانی قانون بالخصوص مسلم خواتین کیلئے ظلم کا پہاڑ باور کرارہے ہیں، بعض قانون داں بھی اسلامی قوانین سے ناواقفیت کی بناءپر مسلم پرسنل لا کو اپنی موشگافی کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں جبکہ اسلام میں عورت ہرگز مظلوم نہیں، اسلام نے مسلمان عورت کے بشری ، نسوانی اور عائلی حقوق کا مکمل تحفظ کیا ہے، جن لوگوں کا علم ناقص ہے یا جو حقیقت سے آگاہ ہونا نہیں چاہتے وہ شریعت اسلامیہ میں نقص تلاش کررہے ہیں، حالانکہ مسلم خواتین کو اسلام کے عائلی قوانین پر اعتراض نہیں، مسلم عورتوں کے ان نام نہاد ہمدردوں سے سوا ل کیا جاسکتا ہے کہ خود ان کے معاشرے میں عورتوں کا کیا حال ہے، کیا ماضی قریب تک اکثر بیوہ عورتوں کو مردوں کے ساتھ زندہ جلا نہیں دیا جاتا تھا اور آج بھی ان کی بہوئیں اپنی سسرال میں جہیز کیلئے ختم نہیں کردی جاتیں۔ اگر انہیں مسلم عورتوں سے واقعی ہمدردی ہے تو وہ ان کے اقتصادی مسائل کیوں حل نہیں کراتے کیا ان کو عام مسلمانوں کی بدحالی و تنگ دستی نظر نہیں آتی، ان کے بھوکے پیٹ لاغر جسم اور تعلیم سے محروم بچے دکھائی نہیں دیتے صرف مسلم خواتین پیاری لگتی ہیں حالانکہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان عورتوں سے ہمدری کے ساتھ ان کے بچوں اور مردوں کے حال پر بھی توجہ دی جائے اور جومسلم خواتین فسادات میں بیوہ یا یتیم ہوجاتی ہیں ان کے واسطے بھی ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو اور ان کیلئے کچھ کرنے کی نیت سے وہ میدان میں آئیں لیکن اس کے بجائے وہ مطلقہ کو زندگی بھر گزارا دلانے پر بضد ہیں تاکہ برادران وطن کی طرح ناچاقی ہونے پر مسلم بہوﺅں اور بیویوں کو بھی زندہ جلاکر ہر جھگڑے سے گلوخلاصی حاصل کرلی جائے۔آج جو عناصر مسلم پرسنل لا کو ہدف بنانے میں مصروف ہیں ان کا مقصد مسلم عورت کی ہمدردی نہیں بلکہ مسلم قوم کا ملی تشخص ختم کرنا ہے، اس کےلئے وہ طرح طرح کی تاویلات گڑھتے رہے ہیں، مسلم پرسنل لا جس کا تعلق صرف مسلمانوں سے ہے، اس کو وہ قومی اتحاد اور ملک کی یک جہتی کے خلاف قرار دیتے ہیں جبکہ اسی ملک میں الگ الگ لسانی، تہذیبی اور علاقائی شناختیں خوب پھل پھول رہی ہیں اور دن بدن ان کے اندر جارحیت بھی پیدا ہورہی ہے۔ دوسری طرف ہندوستانی مسلمان ہیں ، ہر حال میں صابر وشاکر ، جن لوگوں کوزبان کی بنیاد پر ریاستوں کی تنظیم نو کی یاد ہے ، وہ ضرور گواہی دینگے کہ اس تحریک سے مسلمان دور رہے، حالانکہ ملک میں خوب خون خرابہ دیکھنے میں آیا۔ اسی طرح منڈل کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرانے کیلئے لو گ خودسوزی سے بھی باز نہ آئے حالانکہ ان کا پرسنل لا ایک تھا اور وہ ایک ہی مذہب کے پیرو کار تھے، بعد میں پنجاب آسام وغیرہ میں جن تحریکات کا ابھارا ہوا اس کی بنیاد بھی علاقائی اور تہذیبی شناخت کی حفاظت پر مبنی تھی، اس لئے سچائی یہ ہے کہ ملک میں قومی اتحاد اور یکجہتی کی فضا علاحدہ علاحدہ شناختوں کو ختم کرنے سے پیدا نہیں ہوگی بلکہ ان کو تسلیم کرنے اور ضروری تحفظ فراہم کرنے سے اس میں مدد ملے گی، اگر شمال مشرق کی عیسائی اکثریت والی ریاستیں یا پنجاب کی سکھ قوم اپنی شناخت سے دست بردار ہونے پر تیار نہیں تو مسلمانوں سے توقع کیوں کی جارہی ہے کہ وہ اپنی شناخت سے دستبردار ہوجائیں اس حقیقت کو مسلم پرسنل لا کے خلاف آواز بلند کرنے والے جتنا جلد سمجھ لیں، اتنا ہی ان کے لئے اور ملک کے لئے بہتر ہے کہ مسلمان مسلم پرسنل لا کو خیرباد کہہ کر من حیث القوم اپنا تشخص چھوڑنے پر نہ آج تیار ہیں نہ کل تیار ہونگے اور اس کی حفاظت کیلئے وہ کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرینگے۔