SHARE

پورٹ آف اسپین، 02 اپریل (یواین آئی )سلامی بلے باز ایون لیوس (51 گیندوں میں 91 رن) کی طوفانی اننگز کی بدولت ویسٹ انڈیز نے یہاں تیسرے ٹوئنٹی 20 میچ میں پاکستان کو 31 گیندیں باقی رہتے سات وکٹ سے شکست دے دی۔تاہم ابتدائی دو میچ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کو چار میچوں کی سیریز میں 2۔1 کی برتری حاصل ہے ۔ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے اتری پاکستانی ٹیم نے کامران اکمل (48) اور بابر اعظم (43) کی ذمہ دارانہ اننگز سے 20 اوور میں آٹھ وکٹ کے نقصان پر 137 رنز کا اسکور بنایا جسے ویسٹ انڈیز نے صرف 14.5 اوور میں تین وکٹوں کے نقصان پر 138 رنز بنا کر حاصل کر لیا۔پورٹ آف اسپین میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا آغاز کیا تو احمد شہزاد نے پہلی ہی گیند پر سیموئل بدری کو چوکا رسید کر کے اپنے خطرناک عزائم ظاہر کیے لیکن اگلی ہی گیند پر ویسٹ انڈین اسپنر نے ان کی وکٹیں بکھیر دیں۔مہمان ٹیم ابھی اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ بیٹنگ آرڈر میں ترقی پانے والے عماد وسیم وکٹ کیپر کی چابکدستی کے سبب اسٹمپ ہوئے ۔اس موقع پر کامران اکمل اور ان کے کزن بابر اعظم نے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے 88 رنز کی شراکت قائم کی اور پاکستان کے بڑے اسکور کی بنیاد رکھی۔ویسٹ انڈیز کو تیسری وکٹ اس وقت ملی جب بالنگ ایکشن پر پابندی کے بعد پہلا اوور کرانے والے مارلن سیموئلز نے اکمل کی اننگز کا خاتمہ کردیا جبکہ شعیب ملک کی اننگز بھی دو رنز پر تمام ہوئی۔بابر اعظم اچھی فارم میں نظر آئے اور جب وہ 43 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے تو پاکستان نے 115 رنز بنا لیے تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پاکستان 160 رنز یا اس سے زائد کا اسکور بنا لیں گے لیکن اختتامی اوورز میں ویسٹ انڈین بالرز کی نپی تلی بالنگ اور متاثرکن فیلڈنگ کے سبب پاکستانی ٹیم زیادہ رنز بنانے میں ناکام رہی۔پاکستان کی ٹیم مقررہ اوورز میں آٹھ وکٹ کے نقصان پر 137 رنز بنا سکی، فخر زمان نے 21 گیندوں پر اتنے ہی رنز بنائے ۔ویسٹ انڈیز کی جانب سے بدری دو وکٹیں لے کر سب سے کامیاب بالر رہے جبکہ کیسرک ویمز، کارلوس بریتھ ویٹ، سنیل نارائن اور سیموئلز نے ایک ایک وکٹ لی۔پاکستانی بلے بازوں کی کارکردگی مایوس کن رہی اور سات بلے باز دہائی کے ہندسے کوبھی نہیں پہنچ پائے ۔ہدف کا تعاقب کرنے اتری میزبان ویسٹ انڈیز کی جانب سے لیوس نے اکیلے ہی 51 گیندوں کی اپنی شاندار اننگز میں پانچ چوکے اور نو چھکے لگائے ۔ جب وہ تیسرے بلے باز کے طور پر 15 ویں اوور میں 134 رنز پر آٹ ہوئے تو ویسٹ انڈیزکی ٹیم جیت کی دہلیز تک پہنچ چکی تھی۔ویسٹ انڈیز نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو سہیل تنویر نے چیڈوک والٹن کو آٹ کر کے پاکستان کو ابتدا میں ہی کامیابی دلا دی۔لیکن اس کے بعد ایون لوئس نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی بالرز کی خبر لینا شروع کی اور 18 رنز بنانے والے مارلن سیموئلز کے ساتھ مل کر 56 رنز کی شراکت قائم کی۔وہاب ریاض نے سیموئلز کو آٹ کر کے پاکستان کو دوسری کامیابی دلائی لیکن ایون لوئس نے دوسرے اینڈ سے پاکستانی بالرز کی کلاس لینے کا سلسلہ جاری رکھا۔انہوں نے 17 رنز بنانے والے جیسن محمد کے ساتھ تیسری وکٹ کیلئے 76 رنز کی شراکت قائم کی اور اپنی ٹیم کو فتح کی دہلیز تک پہنچا دیا۔جب لوئس 15ویں اوور میں آٹ ہوئے تو ویسٹ انڈیز کو میچ میں فتح کیلئے محض چار رنز درکار تھے ، اوپننگ بلے باز نے نو چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے 51 گیندوں پر 91 رنز بنا کر میچ کو یکطرفہ بنا دیا، یہ کسی بھی ویسٹ انڈین کھلاڑی کا پاکستان کے خلاف سب سے زیادہ اسکور ہے ۔لینڈل سمنز نے وکٹ پر آتے ہی چوکا لگا کر ویسٹ انڈیز کو سیریز میں پہلی فتح سے ہمکنار کرا دیا، لوئس کو شاندار بیٹنگ پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ ویسٹ انڈیز کو اگر سیریز میں برابری حاصل کرنی ہے تو اسے ہر حال میں آخری میچ جیتنا ضروری ہے ۔