SHARE

ڈاکٹرنازش احتشام اعظمی
اللہ کریم نے اپنی بنائی اورسجائی ہوئی زمین پر حضرت انسان کوآبادکرنے سے پہلے ہی اس کی ضروریات و سہولیات کی تمام اشیاءمہیا فرمادی تھی ۔اپنی مخلوق سے حددرجہ محبت کرنے والا خالق و مالک یہ بات بھی جانتاتھا کہ وہ روئے زمین جس نسل انسانی کو بود وباش کیلئے بھیجنے والا ہے ،وہ بڑاہی جھگڑالو اور اپنی عادت کے اعتبار سے فسادوخونریزی کا خوگر ہوگا۔خالق کائنات اس حقیقت سے بھی آگاہ تھا کہ وہ جس مخلوق کو دنیامیں بھیجنے جارہا ہے، وہ فطرت سے بغاوت کرکے خود کوروحانی وجسمانی بیماریوں کا شکار بھی بنا سکتا ہے۔نظام زندگی میں لاابالی پن ،بے ہنگم طرز رہائش اورحفظان صحت سے لاپرواہی اس کے جسم کو لاغرو ناتواں اور کئی بیماریوں کی آماجگاہ بناسکتی ہے۔چناں چہ صانع فطرت نے اپنی سرزمین پُربہار میں حضرت انسان کو بعد میں بھیجا،جبکہ دوااس سے پہلے ہی مہیافرما دی۔ممکن ہے ہمارے کچھ دہریہ محقق اور علم حیوانات کے ماہرین کو یہ سچی بات ہضم نہ ہو ۔مگرجب آپ عقل و فکر اور سائنسی تجزیہ کی روشنی میں علم نباتات کی ادویاتی خوبیوں تک رسائی حاصل کرلیں گے تو یہ جان کر آ پ محو حیرت رہ جائیں گے کہ حقیقی معنی میں انسانی جسم کے تمام آلام و مصائب کا حل خلاق دوعالم نے جڑی بوٹیوں میں پوشیدہ رکھا ہے۔جدید سائنس یعنی سسٹم آف ایلوپیتھی بھی اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ جڑی بوٹیوں کی ادویاتی اہمیت امر مسلم ہے۔طب معلوم تاریخ کے مطابق جڑی بوٹیو ں سے علاج کی تاریخ تقریباً سات ہزار چارسو برس قدیم ہے۔جبکہ دوسو قبل مسیح ایک مستند طریقہ علاج کی شکل میں دیسی جڑی بوٹیاں مرتب ہوئیں اور اس کے بعد منظم طریقے سے اس کی شاندار ابتداءکی تاریخ ناقابل تردید اور مستندہے۔ہم نے جڑی بوٹیوں سے علاج کی معلوم تاریخ کا اندازہ ویدک ساشتروں کی روشنی میں پیش کیا ہے،جس کی مکمل تفصیل ”چرک سنہیتا“اور ”دھنونتری“نے اپنی تحقیق میں بیان کیاہے۔علاوہ ازیں قدیم زمانے سے بوٹیوں کو ان کی خواص اور انسانی جسم پر اثرات کی وجہ سے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا ذکر انجیل (بائیبل) اور قرآن سمیت قدیم کتب میں آیا ہے۔ انہیں آج بھی مختلف امراض کےلئے استعمال کیا جاتا ہے اور جدید ادویہ بھی ان سے اخذ کی جا رہی ہیں۔مگرقدرتی طور پر اگنے والی جڑی بوٹیوں کا ادویاتی شکل میں استعمال کرنے کے باوجود ایلوپیتھک طریقہ علاج نے صرف مخاصمت اور عصبیت یا کاروباری مصلحت کے تحت اپنے سالٹس کاایسا نام رکھاکہ اس سے دور دور تک بھی یہ شبہ باقی نہ رہے کہ اس کی دوامیں بنیادی طورت نباتا ت کا استعمال کیا گیا ہے۔ظاہر سی بات ہے اگر ایلوپیتھک دواو¿ں میں جن جڑی بوٹیوں کے اجزا شامل کئے گئے ہیں ان کے نباتاتی نام استعمال کئے جاتے تو ایلوپیتھک دواو¿ں کے کاروباریوں کو عوام کو دھوکہ دینے کا موقع فراہم نہیں ہوتا۔ہندوستان میںسیکڑوںبرسوں سے رائج اور مقبول طب یونانی سمیت تمام دیسی طریقہ علاج کو اس وقت شدید چوٹ پہنچائی گئی ،جب برطانوی استعمار نے ملک پر مکمل تسلط حاصل کرلیا۔
وائے افسوس کہ انگریزی استعمار نے یہودی بنیا بقالوں اورمہاجنوں کی سازباز سے ایک سازش تیار کی جس کے نتیجے میں عرب سمیت پورے مشرق میں ہز ارو ں برس سے مروج اور آزمودہ طریقہ علاج انحطاط اور زوال کا شکار ہونے لگا۔پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ ہندسمیت تمام مشرق بشمول عرب وکسریٰ میں اس اہم ترین اورانتہائی مو¿ثر اورغیر مضر طریقہ علاج پر فنا کے خطرات منڈلانے لگے ۔انگریزی سامراج نے ہندوستان پر تسلط حاصل کرنے کے بعد صرف یہی نہیں کیا کہ ہماری دھرتی پر موجود قیمتی اثاثوں اور زیر زمین موجود قدرتی ذخائر کو لوٹ کر ملکہ ¿ برطا نیہ کی تجوری بھرنے میں لگ گئے ،بلکہ انگریزوں نے منظم طریقے سے ہندوستان کے طول وعرض میں رائج تمام علوم وفنون کو نیست ونابود کرکے جبراً اپنا سبجیکٹ ہماری دانشگاہوں میں داخل کیا۔ورنہ یہی دیسی طریقہ علاج خصوصاً طب یونانی اپنے قابل فخرماضی سے زیادہ مقبول اورسربلند ہوتا۔خیال رہے کہ جڑی بوٹیوں سے علاج یعنی طب یونانی ایک مستند طریقہ علاج ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اپنی ساری خوبیوں اورادویاتی خصوصیات کے باوجودجڑی بوٹیو ں کوہمارے معاشرے میں وہ اہمیت حاصل نہیں جس کی ضرورت ہے۔اگر اپنے قدیم مراجع کو جدید نافع سے مربوط کرکے اس کی اہمیت و افادیت پر نت نئی تحقیقات کا سلسلہ جاری رہتا تو آج طب یونانی کی منزل جدید ایلوپیتھک طب سے کہیں آگے ہوتی۔اس لئے کہ درجنوں سائنسدانوں اورمحققین کیمیاکا اس بات پر اتفاق ہے کہ جہاں سے جدید طریقہ علاج یعنی ایلوپیتھک کا سفرختم ہوتا ہے،وہاں سے طب یونانی اپنے سفر کا آغاز کرتی ہے۔ایک المیہ یہ بھی ہے کہ طب یونانی میںجدید خطوط پر ٹریننگ کے مطلوبہ مواقعے میسر نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے یہ وہی پرانے طریقے اپناتے ہیں جن میں سے زیادہ تر اب متروک ہوچکے ہیں اور جدید تحقیق کے مطابق اب ا±ن میں زیادہ تر طریقوں سے پودوں سے ادویات کی کشید ممنوع قرار دی جاچکی ہیں۔اگر طب یونانی کیساتھ تعصب کارویہ اختیار نہیں کیا جاتا تو یہ عظیم وقدیم اور مستند طریقہ علاج میں بھی عصری میڈیکل کالجوں کی طرح تمام طبی دانش گاہوں میں علم الادویہ کے ساتھ جراحی(سرجری)کو بھی شامل رہنا چاہئے تھا ۔اس لئے کہ آج ایلوپیتھک طریقہ ¿ علاج کی اصل مقبولیت اسی سرجری کی وجہ سے ہے،جس کی ایجادطب یونانی کے محققین اور ماہرین نے 1000برس پہلے ہی کردی تھی۔مگر منظم سازش کے تحت مغربی کے بیوپاریوں نے سرجری کی تعلیم کو ایلوپیتھک کیلئے مخصوص کردیا اورطب یونانی کواس سے محروم کردیا ۔مغربی استعمارنے تو یہاں تک کوشش کی تھی کہ مشرق میں رائج تمام طریقہ¿ علاج کو سرے سے ختم ہی کردیا جائے،مگرخالق فطرت کے فضل و کرم سے وہ طاقتیں اپنی سازش کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہیں۔اب تو طب یونانی اورمشرق میں رائج لگ بھگ سبھی دیسی طریقہ علاج کواقوام متحدہ کے تحت عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے متبادل طریقہ علاج کے طور پر تسلیم بھی کرلیا ہے۔اس وقت ہندوستان کی 65فیصد آبادی کو صرف روایتی طریقہ علاج کی سہولتیں حاصل ہیں ۔ہمارے یہاں یونانی طریقہ علاج کو1940ءسے باقاعدہ ایک فلسفہ علاج کے طور پر تسلیم کیا گیا، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر واحسان ہے کہ آجہندوستان دنیا بھر میں یونانی ادویات برآمد کرنے کے حوالے سے سب سے آگے ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش کی 66فیصد آبادی طب یونانی سے استفادہ کر رہی ہے،بنگلہ دیش میں بھی طب یونانی کو باقاعدہ ریگولیٹ کیا جا چکا ہے،البتہ ان کی ایلوپیتھک طرز کی رجسٹریشن نہیں کی گئی ہے۔اِسی طرح چینمیں روایتی طریقہ علاج ملک کی تقریباً 40فیصد صحت کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اگر ہم مغربی ممالک پر بھی نظر ڈالیں تو آسٹریلیا ،کینیڈا،امریکہ اور فرانس سمیت دیگر کئی ممالک میں نباتاتی طریقہ علاج کا استعمال کیا جا رہا ہے۔اِسی طرح کئی لاکھ خام مال پیکنگ سے متعلقہ ورکرز، ٹریڈرز۔ اس کے علاوہ جڑی بوٹیاں کاشت کرنے والے ماہرین اور کسان کی بھی بڑی تعداد اس صنعت سے وابستہ ہے ۔ طب یونانی سمیت تمام دیسی طریقہ علاج کیلئے یہ بات باعث انبساط ہے کہ موجودہ بی جے پی حکومت اور خصوصاً وزیر اعظم نریندر مودی نے اس میں دلچسپی دکھائی ہے۔انہوں نے دیسی طریقہ علاج کو فروغ دینے کا وعدہ 2014میں وزیر اعظم کا حلف لینے کے بعد ہی اپنے ایک خصوصی خطاب میں کیاتھا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے دیسی طریقہ علاج کو منظم اور فعال بنانے کیلئے وزارت صحت و خاندانی بہبود میں علیحدہ سے وزارت ”آیوش“کا قیام کیا اور سریپد ییسو نائک کو دیسی طریقہ علاج کو فروغ دینے ،ان کی حوصلہ افزائی کرنے اور دنیاکو ہندوستان کی ادویاتی کاشت کاری جانب مائل کرنے کی ذمہ داری تفویض کی۔ابھی کام تو بہت سارے باقی ہیں ،مگر جس قدر بھی کام ہورہے ہیںاور طب یونانی کے فروغ کیلئے جس طرح کی بھی کوششیں جاری ہیں ،اس میں کیڑے نکالنے کی بجائے اس کی تائید اور حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ہمیشہ پرامیدرہنا چاہئے،جب ایک کام شروع ہوگیا ہے تو انشاءاللہ اسے اورآگے کی طرف جانا ہے اور اسی طریقے سے مقبولیت وترقی حاصل ہوا کرتی ہے۔(ےو اےن اےن)
09891651477