SHARE

محمد ہاشم قادری مصباحی، جمشیدپور
الحمد للہ رب اللعالمین !تمام خوبیاں اللہ رب العزت کو جو مالک و پالنہار ہے سارے جہان والوں کا اور لاکھوں، کروڑوں احسان ہے بے شمار نعمتیں عطا فرمانے والے رب کریم کا کہ ایمان جیسی اعلیٰ نعمت سے بھی مالامال فرمایا اور ایمان کی جان محبت رسول اللہ ﷺ سے بھی سرفراز فرمایا۔ چونکہ یہ نعمت سب کو نہیں ملتی، اللہ جسے چاہتاہے اپنے فضل سے نوازتا ہے۔ قرآن مجید میںاللہ رب العزت نے اپنے پیارے بندوں کے بارے میں ارشاد فرمارہاہے:قُل± اِنَّ ال±فَض±لَ بِیَدِ اللّٰہِ یُو±تِی±ہِ مَن± یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ وَاسِعµ عَلِی±مµ یَّخ±تَصُّ بِرَح±مَتِہ مَن± یَّشَآئُ وَاللّٰہُ ذُو±ا ل±فَض±لِ ال±عَظِی±م0(القرآن ، سورہ آل عمران، آیت ۳۷۔۴۷) ترجمہ: تم فرمادو کہ فضیلت اللہ کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطا فرماتا ہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔(کنزالایمان) اللہ کے بعض خاص بندے محبت رسول سے اپنی زندگی کو مزین فرماکر رضائے الٰہی میں فدا رہتے ہیں تو اللہ رب العزت ان کو اپنے مقبول بندوں میں شامل فرما کر ولایت کاشاندار تاج عطا فرماتا ہے ۔ عطائے ربی ہے جسے چاہے عطا فرمائے ۔ یہ اس کی رحمت ہے ۔
قدرت الٰہی کے کرشمے بھی عجیب ہیں۔ حکمتِ خداوندی کب کس چیز کا فیصلہ فرمادے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ یہ حکمتِ الہٰی کا کرشمہ ہی تو ہے کہ ساتویں صدی ہجری میں خراسان سے ایک اللہ کے ولی ہندوستان پہنچے اور اپنے علوم و معارف سے پورے ہندوستان کو ایسا مسخر کیا کہ صدیاں گزر گئیں اس کے باوجود بھی آپ کا نام سکہ رائج الوقت کی طرح چل رہا ہے۔ شیخ الاسلام حضرت خوا جہ معین الدین چشتی اجمیری رحمة اللہ علیہ (ولادت۷۳۵ھ، وفات ۲۳۶ھ) نے اسلامی علوم و دعوتی جدو جہد اور اصلاح و تربیت کے ذریعہ ہندوستان میں اسلام و روحانی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ پہلی صدی ہجری میں ہی یہاں اسلام کی تبلیغ کے دستے آنے شروع ہوگئے تھے لیکن آپ کی آمد کے بعد آپ کی ایمانی ، روحانی، اخلاقی تعلیما ت نے ہندوستان میں اسلام کو جلا بخشی اور ہزاروں ہزارکی تعداد میںلوگ جوق در جوق مسلمان ہونے لگے۔ تیزی سے اسلام پھیلنے لگا۔ آپ کی تعلیمات اسلامی، عوامی خدمات کسی نام و نمود کے لئے نہیں تھیں بلکہ ہر چیز کا مقصد کلمہ توحید کی اشاعت اور اسلام کے پیغام کو عام کرناتھا۔ اسی وجہ کر ان گنت لوگوں نے آپ کے دست حق پر اسلام قبول کیا۔ صرف ایک سفر دہلی سے اجمیر جاتے ہوئے راستے میں سات سو ہندوو¿ں کو مسلمان کیا ۔یہ تھی آپ کی اخلاقی ، روحانی طاقت(بزم صوفیااز سید صباح الدین عبد الرحمٰن ،صفحہ۸۶،تاریخ دعوت و عزیمت جلد۳،صفحہ ۱۲۔۲۲)
ظاہر سی بات ہے مسلمان ہونے والے ان سات سو افراد میں سے کچھ آپ کے اخلاق کو دیکھ کر متاثر ہوئے ہوں گے اور آپ کے دلی لگن اسلام کی اشاعت کے لئے جو تھی اور آپ کی زبانی دعوت پر ہی لوگ مسلمان ہوئے ہوں گے۔ دورِ حاضر میںبالخصوص ہندوستان کے اندر حضور خواجہ اجمیری رحمة اللہ علیہ کی زندگی کے ا س ناقابلِ فراموش پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے ۔ ہندوستانی مسلمانوں خصوصاً علمائے کرام پر فرض ہے کہ وہ صحیح بنیادوں اخلاق و خدمات سچے دل سے ، نام نمود اور شہرت سے بچتے ہوئے صرف اللہ کے لئے دعوتِ اسلام کے لئے تیار ہوں ، کوشش کریں۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمة اللہ علیہ جاں گسل حالات میں اپنی دینی بصیرت و حمیت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی زندگی کے لئے رسول کریم ﷺ کی مکی زندگی سے روشنی اور توانائی حاصل کیا، صبر وشکر کی ریتیلی زمین و پہاڑ کی تپتی ہوئی پتھریلی زمین پر چل کر اپنی مکی زندگی کو مدنی زندگی میں بدلنے کے لئے ہر لمحہ کوشاںرہے۔ خواجہ صاحب نے اسوئہ رسول و حکم ِ الٰہی کو اپنا رہنما بنائے رکھا۔ترجمہ: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاو¿ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کروجوسب سے بہتر ہو۔ بے شک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو(القرآن سورة النحل ،آیت ۵۲۱،کنزالایمان)
آپ کو یہ پورا احساس تھا کہ مجھے بے دینوں کے پاس دین کی دعوت لے کر جانا ہے اور جو طریقہ رب کریم نے بتایا ہے اسی اصول سے دین کی تبلیغ کرتے رہے۔ سب کے ساتھ محبت ،انسانیت کا برتاو¿کرتے تھے۔ چھوٹوں پر پیار نچھاور کرتے اور دوسری قوم کے لوگوں پر پیار لٹاتے(اپنو ںپر تو سبھی لٹاتے ہیں)غربا پر حد درجہ شفقت فرماتے ، اپنا کھانا اٹھا کر دے دیتے ، اپنے کپڑے پہنادیتے ، تیمارداری کرتے مریضوں، غریبوں کی خدمت کرتے تب یہ انمول نام” غریب نواز‘ کا لقب خاص الخاص ہوا۔ آج بھی کروڑوں لوگ آپ کی غریب نوازی کے فیض سے مالا مال ہورہے ہیں۔آپ نے اپنے آقا ﷺ کی سنت پرعمل کیا ، غریبوں اور بلا تفریق مذہب انسانوں پر محبت نچھاور کیا۔آپ نے Theoryپر بھی عمل فرمایا اور Practicalپر خوب زور دیا۔ مخلوق خدا کو اس کے باطن میںپوشیدہ اور ظاہر سے نمایاں ہونے والے عقائد کی بنیاد پر نہیں پہنچاتے تھے ۔آپ نے قوت ِ گویائی رکھنے والی خدائی مخلوق انسانوں کو خواہ کتنی ہی گندگیوں میںملوث ہوں ان کی طرف توجہ فرمائی اور اس کو گلے لگا یا اور اسلامی تعلیمات سے آراستہ فرمادیا۔ صحیح اللہ والے یہی ہیں جنہیں اللہ نے اپنے مقبول بندوں میں شامل فرما کر ولایت کا شاندار تاج عطا فرمایا اور اللہ رب العزت نے ان کا تعارف قرآن کریم میں اس طرح بیان کیا ہے۔ ترجمہ: سن لو بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ غم ، وہ جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں انہیں خوشخبری ہے دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں ۔اللہ کی باتیں بدل نہیںسکتی ہیں ۔یہی بڑی کامیابی ہے (القرآن سورہ یونس،آیت ۲۶۔۴۶،کنزالایمان)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کسی نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ اولیا ءاللہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا:یہ وہ لوگ ہیں جن کے دیدار سے خدا یاد آئے(تفسیر صاوی، تفسیر مظہری) کشف المحجوب میں حضرت داتا گنج بخش قد س سرہ¾ نے ولی کا ایک اور مفہوم بیان کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔” یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو مرتبہ ولایت اس طرح عطا فرمائے کہ اسے کائنات میں تصرف و اختیار سے نوازے او ر اس کی تمام دعائیںقبول کی جائیں۔“بہت سے گرد آلود بالوں والے اور لوگوں کے دروازوں سے دور رہنے والے ایسے ہیں کہ اگر کسی بات پروہ قسم کھالیںتو اللہ تعالیٰ ضرور ان کی قسم پوری فرمائے گا(مسلم شریف)۔ دوسری روایت میںہے :بہت سے گردآلود بالوں اور پرانے کپڑے والے لوگ جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ایسے ہیں کہ اگر وہ کسی بات پر اللہ تعالیٰ کی قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم ضرور پوری فرماتا ہے۔ (ترمذی، بیہقی)۔اولیاءکرام اور صوفیا بزرگوں کی تو بات ہی نرالی ہے۔ اللہ سے عشق اور محبت رسول کی ہی وجہ سے تو ان پر انعامات کی بارشیں ہوئی ہیں اور آج بھی جاری و ساری ہیں۔ صوفیا بزرگوں کی بیاض (Diary)میں بہت دلچسپ واقعات صاحبِ بصیرت کے لئے سبق آموز ہوں گے۔ مشہور بزرگ عارف باللہ ، سیدی علامہ احمد برنسی معروف بہ شیخ رزوق رحمة اللہ علیہ ۹۹۸ ہجری ماہ صفر، ۳۹۴۱عیسوی اپنی کتاب (الجمع بین الشریعة والحقیقة) میں فرماتے ہیں کہ تصوف کی تقریباً دوہزار تعریفیں اور تفسیریں آئی ہیں۔ ان سب کا حاصل اللہ تعالیٰ کی طرف سچی توجہ ہے جس شخص کو مولائے کریم کی طرف سچی توبہ اور رسول سے محبت حاصل ہے اسے تصوف کا ایک حصہ حاصل ہے۔ (فقہ و تصوف ۴۹،۵۹ مصنف شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ ۔ ترجمہ علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری ، اعتقاد پبلشنگ ہاو¿س، دہلی)مشہور بزرگ حضرت جنید بغدادی رحمة اللہ علیہ سے تصوف کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:(۱) مخلوقات کی موافقت سے دل صاف کرنا(۲) طبعی یا نفسانی اوصاف سے جدا ہونا(۳) نفسانی خواہشات سے گریز کرنا(۴) روحانی صفات کا طلبگار ہونا(۵) حقیقی علوم سے متعلق ہونا(۶) دائمی اچھے کاموں کا اختیار کرنا(۷) تمام امت کا خیر خواہ ہونا(۸) حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کا وفادار ہونا (۹) شریعت میں رسول اللہ ﷺ کا پیروکار ہونا(۰۱) اور شریعت کی تمام صفات اور برکات کا حامل ہونا وغیرہ وغیرہ ۔ (فقہ تصوف صفحہ ۳۹،۴۹، مصنف شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ)
آج کے صوفیوں کو تصوف کی صحیح تعلیم پر نظر رکھناچاہئے۔ علم وعمل کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی شریعت کا پابند ہونا انتہائی ضروری ہے ورنہ سب بیکار ہے۔
مولانا روم رحمة اللہ علیہ مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:
علم حق در علم صوفی گم شود ٭ ایں سخن کے باور مردم شود
گفتئہ او گفتہ اللہ بود ٭ گرچہ از حلقوم عبداللہ بود
(حق تعالیٰ کا علم عارف صوفی کے علم میںپوشیدہ ہوتاہے اگرچہ عام لوگوں کو یہ بات مشکل معلوم ہوتی ہے۔ولی کی گفتگو دراصل اللہ تعالیٰ کی گفتگو ہوتی ہے اگرچہ بظاہر بندہ خدا کے حلق سے نکلتی ہے۔)صوفیا کی اصطلاح میں ولی وہ ہے جس کا دل شب و روز ذکر الٰہی و تسبیح اور تہلیل میں محو اور مصروف ہو۔ اس کے دل میں محبت الٰہی کے سوا کسی غیر کے لئے جگہ نہ ہو اور وہ جس سے بھی محبت یا نفرت کرے محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کرے۔(تفسیر مظہری) دراصل یہی ولی اللہ ہیں جوآج بھی صدیاں گزرجانے کے باوجود خواجہ معین الدین چشتی رحمة اللہ علیہ ہندوستانیوں پر حکمرانی فرمارہے ہیں۔ اورکتنے ہی مادی حکومتوں کے مالک ذہن سے محو ہوگئے، غائب ہوگئے۔ حضور خواجہ غریب نواز کی زندگی پورے طور پر اسلام کی آبیاری اور خدمت خلق کے لئے وقف تھی ۔ غریبوں ، محتاجوں، بے سہاروں کے ساتھ مشفقانہ برتاو¿ فرماتے تھے۔ غریبوں کی دستگیری میں ہمہ تن سرگرم عمل رہتے تھے۔آج بھی غریب نوازی فرمارہے ہیں۔ اللہ ہم تما م لوگوں کو آپ کی تعلیمات پر چلنے اور غریبوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!(ےو اےن اےن)