SHARE

ڈاکٹر ساجد خاکوانی
جب ماتحت،نوکر اور ملازم کی خرمستےاں ،بدتمیزیاں اور گستاخیاں بہت زےادہ بڑھ جائیں تو بعض اوقات مالک ےاآقااسکو شرمندہ کرنے کے لےے اور اس میں احساس ندامت تازہ کرنے کے لےے سزا دینے کی بجائے اس پر مزید احسانات چڑھا دےتا ہے کہ شاےد اس طرح زیربار ہوکریہ اپنی حیثیت پہچان لے اور پلٹ آئے۔ہمارا حرمین شریفین کی زےارت کا سفر بھی کچھ اسی قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔
ہم ایک غےرملکی ہوائی کمپنی کے دےوہیکل جہاز پر سوار ہوئے ۔راستے میں جب اس جہاز نے اپنے قومی ہوائی اڈے پر مختصر قےام کیا تو ہم نے وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے احرام باندھ لیااورلبیک اللھم لبیک کا ورد کرتے ہوئے اگلے طےارے میں سوار ہو گئے۔بعدنماز ظہر حجازمقدس کی سرزمین پرآن اترے۔مقامی ایجنٹ وہاں موجود تھے،ہوائی اڈے سے نکلتے ہی ہمارے پاسپورٹ انہوں نے اپنے قبضے میں کر لےے۔یہ رویہ غالباََ صرف پاکستانیوں کے ساتھ ہی ہے اسکی وجہ ماروطن میں زبان زدعام و خاص ہے۔ہمیں سرزمین مکہ کے لےے ایک بس میں سوار کیا گےا ،عصر کا وقت راستے میں ہی داخل ہو گےااورڈرائیور نے ہمیں جدہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ایک مقام پر مسجد میں نماز اداکروائی،ہر چند کہ ہماری خواہش تھی کہ کسی طرح حرم مکہ میں ہی یہ نماز ادا ہوتی۔مکہ مکرمہ میں ہوٹل میں سامان رکھااور عازم حرم ہوئے۔یہ شہر جہاں آج بھی ایک سبز پتہ تک نہیں اگتالیکن دنیا کی وہ کونسی نعمت ہے جو یہاں میسر نہ ہو۔یہ اﷲ تعالی کے برگزیدہ نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے کہ دنیا بھرکے کارخانوں سے سامان سے لدے پھندے بحری جہازآتے ہیں اورگاہکوں سے بھرے ہوئے ہوائی جہاز پہنچتے ہیںاور دنوں ہی دنوں میں مکہ مکرمہ کی سرزمین پر ےوں خالی ہو جاتے ہیں جیسے انکا وجود ہی نہ تھا۔سڑک کے دونوں جانب دنیاکی چمک دمک دیکھتے ہوئے ہم خانہ خداکی جانب رواں دواں تھے ،ایک دروازے سے حرم محترم میں داخل ہوئے اورسامنے کعبة اﷲ پر نگاہ پڑی،جاہ وجلال سے قدم رک سے گئے،آنکھیں تر ہو گئیں زبان سے کیا دعاکرتے بس سب دعائیں دل سے نکلتی ہو ئی آنکھوں کے راستے اظہار ہو گئیں۔
حجراسود سے طواف کا آغاز کیا،ایک جم غفےر تھاجو ہمارے ساتھ ےا ہم اسکے ساتھ محوطواف تھے۔یہ اپنے طرز کی دنیامیں واحد عبادت ہے،زمین کے سینے پر اور اس نیلی چھت کے نیچے کسی اور جگہ ،مقام ےا حجرہ کا طواف نہیں کیا جاتااور فرض نمازوں کے علاوہ گزشتہ چار ساڑھے چار ہزار سالوں سے اس کمرے کا طواف جاری ہے اور کبھی اس میں توقف نہیں آیا الاماشاءاﷲ۔یہ اس عظیم کائنات کی سنت ہے کہ ہر چھوٹا اپنے سے بڑے کا طواف کرتا ہے،چاند زمین کا طواف کرتا ہے اور زمین اپنے سے بڑے سورج کا طواف کرتی ہے اور انسان اپنے رب کی کبرےائی کا اعتراف کرتے ہوئے اسکے گھر کا طواف کرتا ہے۔تکمیل طواف کے بعد ہم نے آب زمزم پیٹ بھرکرنوش جان کیا کہ یہی مےرے نبی ﷺ کی سنت ہے۔ایک نبی علیہ السلام کے پاو¿ں سے پھوٹنے والا چشمہ جو گزشتہ ساڑھے چار ہزار سالوں سے جاری وساری ہے اور جس سے کروڑہالوگ ہر سال آبےارہوتے ہیں اور بھربھرکر اپنے علاقوں میں بھی لے جاتے ہیں تب بھی اس چشمے کے بہاو¿میں کوئی رتی برابر کمی نہیں آئی اور ایسا کیونکر ہو کہ میرے آقائے نامدار ﷺ نے اس چشمے کے پانی کو منہ میں لیکر اسے ”جھوٹا“نہیں بلکہ”سچا“کرکے واپس اس کوئیں میں الٹ دےا تھا اس” سچے“کے منہ سے ”سچا“کیاہواپانی قےامت تک اپنی سچائی دنیا پر ثبت کرتا رہے گا یہ اﷲ تعالی کی نشانیاں ہیں جو چاہے ان کو مانے اور جو چاہے تپتی دوپہرچمکنے والے اس ماہتاب کا انکار کرکے ابو جہل کی صف میں داخل ہوجائے۔
ہم ادائے عمرہ کے لےے رکن ثانی”سعی بین الصفا والمرہ“کی جانب بڑھے۔ایک مامتا کی دوڑ خالق کائنات کو کس قدر پسند آئی کہ تا قےامت اس خدا کو خوش کرنے کے لےے آسمان پر ستاروں سے اور زمین پر ریگستان کے ذروں سے سینکڑوں گنا کثےرتعداد لوگ لاکھوں روپے خرچ کر کے اور ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے تو اس ”ماں“ کی سنت کو تازہ کرتے رہیں گے اور صفااورمروہ کے درمیان دوڑتے رہیں گے اور عین اسی طرح دوڑیں گے جیسے وہ ایک”ماں“دوڑی تھی،دوسبزبتےوں کے درمیان تےزتےز اور باقی سفر دھیما لیکن دھیان اور نظریں اسی کعبہ کی طرف رہیں گی جس کے جوار میں ایڑھےاں رگڑتا ہوا اس ”ماں“کا بچہ بلبلا رہا تھا۔کیا اب بھی کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نبیوں کا لاےا ہوا دین عورت کو اسکے حقوق سے محروم کرتا ہے ؟حقےقت یہ ہے کہ صرف اسلام نے ہی عورت سمیت انسانوں کے تمام طبقات کو اسکے صحیح حقوق وفرائض سے آشنا کیا ہے۔جبکہ انسانوں کے بنائے ہوئے اصولوں اور ضابطوں نے افراط و تفریط اوراستحصال کے سوا کچھ نہیں دےا۔
سعی کی تکمیل کے بعد گنج کرنے کایا بال کٹوانے کا مرحلہ درپیش تھا،ہم نے اپنے بوجھے سے قینچی نکالی اور بال کترلےے اور احرام سے آزاد ہو گئے۔لوگوں نے اعتراض کیا کہ مکمل گنج جسے اصطلاح میں ”حلق“ کہتے ہیں کرانی چاہےے تھی۔ہم نے عرض کیا نبی آخرالزماں ﷺ نے حلق کرانے والے کے لےے دو دفعہ اور صرف بال کتروانے والے کے لےے ایک دفعہ دعافرمائی ہے۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ نبی کی ایک دفعہ کی دعا اور وہ بھی آخری نبی ﷺ جیسی ہستی کی ایک دفعہ کی دعا ہم گنہگاروں کی قسمت بدل دینے کے لےے کافی ہے۔ےار لوگ اس پر خاموش تو ہو گئے لیکن ان کے چہرے بتا رہے تھے کہ تسلی نہیں ہوئی۔اس کے بعد جتنی بار بھی عمرہ کیاہم نے بال ترشوا کر احرام اتار دےا کیونکہ کتب شریعت میں اسکی گنجائش موجود ہے۔
حرم مکہ مکرمہ میں تمام مسلمان ملکوں اور قوموں کی نمائندگی موجود تھی۔ہرقوم اپنے رنگ،زبان ےا لباس سے پہچانی جاتی تھی۔ترک مسلمان عورتوں مردوں نے خاکی رنگ کے کپڑے اوربڑی بڑی جیبوں والے کوٹ پہنے ہوتے تھے اور گروہ کی شکل میں طواف کرتے تھے،انڈونیشیا اور ملائشا کی خواتےن و حضرات نے سفیدلباس اور مردوں نے خاص طرز کی ٹوپی اوڑھ رکھی تھی،ایران کے لوگ اپنے اپنے گروہ کے خاص لباس میں ملبوس ہوتے تھے،کسی نے مکمل سفید لباس زیب تن کیا ہوتا تو کسی کسی گروہ نے سفید لباس پر سےاہ عبا چڑھائی ہوتی اور انکی گروہوں کے نام اور شہروں کے نام انکے کپڑوں کی پشت پر درج ہوتے ۔عرب اقوام کے لوگ اپنی”توپ“میں ملبوس ہوتے اور انکی خواتےن سرسے پاو¿ں تک سیاہ عباےا میں ڈھکی ہوتی تھیںحتی کی ہاتھ بھی سےاہ دستانوں میں چھپے ہوتے تمام اقوام کے گروہ کسی ایک امام کے پیچھے ایک آواز میں اسکی اقتداکرتے اور مناسک طواف و عمرہ ادا کرتے۔چند ہفتوں کے نومولود سے چند ہفتوں کے منتظر بزرگوں تک ہر عمر کے لوگ کعبة اﷲ کے گرد نظر آتے تھے۔ان میں اکثرےت ایرانیوں کی تھی جوایک منظم قوم کا نظارہ پیش کرتے تھے۔ہم برملا یہ بات کہتے ہیں کہ آفرین ہے ایران کے اثنا عشری علماءکو جو ایک مختلف مکتب فکرکے امام کے پیچھے خود بھی نمازیں ادا کرتے تھے اور اپنی قوم کو بھی اپنے ساتھ نمازیں ادا کرواتے تھے۔انکی نماز اور انکی نمازوں کے اوقات بھی بہت مختلف ہیںلیکن انکی اعلی ظرفی اور وسیع القلبی کے ہم عینی شاہد ہیں۔ایک بار نہیں متعدد بار ہمارے دائیں بائیں اہل تشیع نمازی ہی تھے جو نماز کے اختتام پر خوشی سے دونوں جانب کے مسلمانوں سے مصافحہ بھی کرتے تھے اور ہم نے کبھی ان میں اجنبیت محسوس نہیں کی ۔ہم دعا گو ہیں اﷲ تعالی یہ ظرف امت کے تمام مکاتب فکر کو عطا کرے۔
صرف پاکستانی مسلمان ہی تھے جنہوں نے رنگ برنگ لباس اور طرح طرح کی اوڑھنیاں اوڑھ رکھی تھیں،باقی سب اقوام کے افراد گروہوں کی شکل میں ہوتے تھے جبکہ پاکستانی کثےرتعداد میں ہونے کے باوجودبکھرے ہوئے ہوتے اور باقی اقوام کے لوگ اپنے مقامی علماءکے پیچھے پیچھے چلتے اور ہم دےکھتے کہ انکے علماءطواف ےا عمرہ شروع کرنے سے پہلے انہیں ایک طویل درس دیتے اور جملہ مسائل بتاتے اور انکے سوالات کے جواب دیتے اور پھر دوران مناسک بھی وہ علماءاپنے گروہوں کے یمن و ےسار ہوتے جبکہ پاکستانیوں کے لےے ایسی کوئی سہولت نہ تھی اور غلطیوں پر غلطیاں کرتے تھے ےا پھر کتابوں سے پڑھنے کی کوشش کرتے جہاں سے ہر الجھن کا جواب تو ممکن نہ ہوتاتھا۔اگرچہ یہ عمرہ کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قافلوں کی صورت میں لوگوں کو روانہ کریں اور ہر قافلے کے ساتھ ایک عالم دین ہو جو انکی راہنمائی کرتا رہے تاہم حجاز مقدس میں پاکستانی حکومتی مشن بھی چاہیں تو جہاں دیگر مختلف محکموں کے لوگ تعینات کےے جاتے ہیں وہاں علماءکو بھی تعینات کر کے تو حاجیوں کی راہنمائی کافریضہ سرانجام دےا جائے۔
کچھ دنوں کے بعد ہوٹل والوں نے ہمیں مدینہ منورہ روانہ کےا۔ہم علی الصبح بس میں سوار ہوئے ہمارا خیال تھا ظہر کی نماز جوار نبوی ﷺ میں ادا کریں گے لیکن تاخیر کے باعث ہم بروقت نہ پہنچ سکے۔یہ وہ شہرمقدس ہے جہاں دنیا کی تاریخ نے ایک نیا رخ اختےار کیا۔آج ہر فن کی تعلیم اسکے بانی کے ذکر سے شروع کی جاتی ہے لیکن افسوس کی انسانیت کی تعلیم اسکے بانی کے ذکر سے خالی ہے۔یہ شہرمقدس انسانیت کی اولین آماجگاہ ہے اور اس شہر کا بانی انسانیت کا بانی ہے۔محسن انسانیت ﷺ سے پہلے کسی رےاست کے تحریری دستورکا تصور ہی نہ تھا،دوردورتک یہ خیال ہی نہ تھا کہ جنگی قےدی کو بھی زندگی کا حق حاصل ہے،دشمن کی معافی کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتاتھا،اور اسی بار ہمیں ایک دوست نے مکہ مکرمہ میں وہ مقام دکھاےا جہاں بچیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا،غلام اورحقوق دو متضاد الفاظ تھے یہ اس شہر مقدس میں برپاہونےوالے معاشرے کا کمال ہے کہ انسانوں کو انسانیت میسر آئی۔
مدینہ منورہ کا ایک ایک ذرہ مقدس زےارت گاہ ہے۔ہمیں میدان احد لے جاےا گےاجہاں سےدالشہداکی قبر مبارک پر فاتحہ کی سعادت نصیب ہوئی،میدان خندق کا نظارہ کیا جہاں عوام نے ایک پتھر اور قےادت نے اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھ رکھے تھے،کھجوروں کے باغات دکھائے گئے جو ڈےڑھ ہزارسال کے بعد آج بھی تروتازگی کا زندہ شاہکار تھے،بئرعثمان کوتو ڈھانک دےا گےا ہے لیکن وہ جگہ ہم نے بس میں بیٹھے بیٹھے دیکھی۔جنت البقیع میں چار شہزادےوں اور امہات المومنین کی قبروں کی زےارت کی اور حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کی قبر پر فاتحہ پڑھی۔روزانہ شام کے اوقات میں ہم اپنے دوستوں کے ساتھ حضور ﷺ کے قدموں کی جانب رات گئے تک بیٹھے رہتے کہ ان قدموں کے صدقے اور انکے طفیل اور انہیں کے توسط سے ہی دارین کی کامیابی و کامرانی ممکن ہے۔
کم و بیش ایک ہفتہ کے بعد ہم بوجھل قدموں سے جانب مکہ مکرمہ عازم سفر ہوئے۔مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ ادا کیا لیکن سچی بات یہ ہے کہ مدینہ منورہ سے بچھڑنے پر ایک ڈےڑھ دن تک طبیعت بہت ناگوار رہی اوراداسی وپژمردگی سی مزاج پر طاری رہی تاہم ایک بار پھر کعبة اﷲ نے ہمارا دھیان اپنی طرف کھیچ لیا اور اب چونکہ واپسی کا سفر سرپرسوار تھااس لےے توجہ تقسیم در تقسیم ہو تی چلی گئی۔سعودی حکومت نے حرمین کے انتظام و انصرام پر پانی کی طرح پیسہ بہاےا ہے۔حاجیوں کی ہرتکلیف کا فوری ازالہ وہاں موجود ہے ،صفائی تو حرمین پر ختم ہے چوبیس گھنٹے دن رات چاک و چوبند عملہ صفائی پر مامور ہے۔زمزم کے سینکڑوں نہیں ہزاروں کولر موجود ہیں اور کبھی کوئی خالی نہ ملا۔وہاں کی ٹریفک حاجیوں کو دیکھ کر ہارن نہیں بجاتی بلکہ رک انہیں راستہ دیتی ہے۔حرم کعبہ کے دواطراف میں توسیع حرم کا کام دن رات زوروشور سے جاری ہے ہمارا اندازہ ہے کہ حج تک یہ کام تکمیل ےافتہ ہو چکے گا۔آخری رات ہم نے آخری طواف کیا اور دعامانگی کہ اے بار الہ ہمیں ایک بار پھر اس گھر میں لانا کہ سفر ندامت ابھی نامکمل ہے۔(ےو اےن اےن)