SHARE

ڈاکٹر محمد عبدالرشےد جنےد
کسی بھی ملک کی حکومت کو اپنے شہرےوں کی تعلےم و تربےت اورصحت عامہ کے مراکز کا قےام اور روزگار سے مربوط کرنے کے ذرائع پےدا کرنا اس کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے کےونکہ اگر ملک کے شہری ناخواندہ اوربے روزگار رہےں تو اس سے ملک مےں مختلف قسم کے جرائم پنپنے لگتے ہےں اور ہوتے ہوتے ان جرائم مےں اضافہ حکمراں کو اقتدار سے محروم کرنے کی نوبت تک پہنچ جاتے ہےں ۔ سعودی عرب مےں بھی روزگار کا مسئلہ بڑھتا جارہا ہے، سخت قوانےن کے باوجود کئی طرح کے جرائم دکھائی دےتے ہےں۔روزگار کے مسئلہ پر قابو پانے کےلئے شاہ عبداللہ کے دور حکمرانی سے ہی سعودی ائزےشن کا مسئلہ شروع ہوا جس کے ذرےعہ کئی اےک شعبوں مےں سعودی شہرےوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا تھا۔شاہ عبداللہ بن عبدالعزےز انتقال کے بعد اقتدار پر فائز ہونے والے شاہ سلمان بن عبدالعزےز نے اپنے ہم وطنوں کو روزگار سے مربوط کرنے کے لئے ،سعودی عرب کی تعمےر و ترقی مےں ہندو پاک، بنگلہ دےش، افغانستان، سری لنکا، مصر، سوڈان، ےمن وغےرہ کے تارکےن وطنوں کوروزگار سے محروم کرتے ہوئے انکے اپنے ملک واپس بھےجنے کا آغاز کےا۔جن تارکےن وطنوں نے سعودی عرب کی تعمےر و ترقی اور اسے عالمی سطح پر اےک بہترےن ترقی ےافتہ اور عصری ٹکنالوجی سے آراستہ فلاحی مملکت کی حےثےت سے تپتی دھوپ ، شدےد جہلسا دےنے والی گرمی اور ٹھٹرادےنے والی خطرناک سردی مےں سخت محنت و مزدوری کرکے اسے اس مقام و مرتبہ پر پہنچاےا اسے شاہی حکومت نظر انداز کرتے ہوئے تارکےن وطنوں کو روزگار سے محروم کررہی ہے۔ ےہاں ےہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کسی بھی حکمراں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہم وطنوں ےعنی اس ملک کے شہرےوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کےلئے لائحہ عمل ترتےب دےں اور اس پر عمل پےرا ہوں جےسا کہ سعودی حکومت اپنے شہرےوں کو روزگار فراہم کرنے کے منصوبے رکھتی ہےں جو خوش آئند اقدام ہے لےکن جو تارکےن وطن سخت محنت و مزدوری کئے ہےں انہےں روزگار سے محروم کرتے وقت کم از کم انکی مکمل تنخواہےں اور بقاےات جات ادا کردےنا چاہےے۔ گذشتہ دو تےن سال کے دوران ہزاروں تارکےن وطن اپنے اپنے وطنوںکوپرےشان کن صورتحال لئے واپس لوٹ رہے ہےں انکی واپسی سے ارکان خاندان بھی پرےشان ہےں کےونکہ ان کے روزگار سے گھر کا خرچہ ، بچوں کی تعلےم و تربےت ، صحت و تندرستی اور ضرورےاتِ زندگی پوری ہوتی تھی۔ شاہ سلمان بن عبدالعزےز کے زمانے مےں تارکےن وطن خصوصاً ہند وپاک کے تارکےن وطن کئی اےک مصائب و مشکلات کا سامنا کررہے ہےں۔ جےسا کہ اوپر بتاےا جاچکا ہے کہ اےک طرف روزگار کے چلے جانے کا خوف ہر وقت انہےںستاتا ہے تو دوسری جانب انہےں تنخواہےں وقت پر نہےں دی جارہی ہےں ، نجی شعبے کے اداروں مےں کئی کئی ماہ کی تنخواہےں باقی ہےں ان حالات مےں تارکےن وطن کو روزگار سے محروم کرکے مزےد پرےشان کن صورتحال سے دوچار کےا جارہا ہے ےہاں تک کہ انکے اپنے وطن واپسی بھی مشکل ہے کےونکہ ہزاروں تارکےن وطن سعودی ائزےشن کے زد مےں آچکے ہےں جس کی وجہ سے انہےں نوکرےوں سے محروم ہونا پڑا اور انکے بقاےات جات بھی ادا نہےں کئے گئے۔ عالمی سطح پر خواتےن کے حقوق کے لئے کئی تنظےمےں سرگرم عمل ہےں سعودی عرب مےں بھی خواتےن اپنے حقوق کے لئے آئے دن کسی نہ کسی طرح سوشل مےڈےاو دےگر تشہری اداروں کے ذرےعہ احتجاجی بےانات کا سلسلہ جاری رکھی ہوئےں ہےں۔ سعودی عرب مےں خواتےن کو ڈرائےونگ کی اجازت نہےں ہے کئی سال سے ڈرائےونگ کےلئے لائسنس جاری کرنے کا مطالبہ کےا جارہا ہے لےکن اس سلسلہ مےں ابھی کوئی پےشقدمی نہےں ہوئی ہے، مملکت مےں مختلف نجی شعبوں مےں خواتےن روزگار سے مربوط ہےں ۔ اےک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے نجی شعبے میں خواتین ملازمین کی تعداد 2016کے تیسرے سہ ماہی کے آخرمیں 496,800 تک پہنچ گئی۔جی او ایس آئی کے اعدادوشمار کے مطابق یہ تعداد2012 کی نسبت 144.62فیصد زیادہ ہے۔سعودی عرب خواتین کے افرادی قوت میں 23سے 28فیصد اضافے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ 2020تک مردو خواتےن کی بے روزگاری میں 9فیصد تک کمی کا ارادہ ہے ۔ےہ بات سعودی عرب مےں مشہور ہی نہےں بلکہ حقےقت پر مبنی ہے کہ زےادہ ترسعودی شہری پابندی اور ذمہ داری سے خدمات انجام نہےں دےتے کےونکہ انہےں کئی قسم کی مراعات حاصل تھےں ےا ہےں اور وہ تعےش پسندانہ زندگی گزارکو ترجےح دےتے ہےں لےکن اب نام نہاد شدت پسند تنظےموں کی دہشت گردانہ کارروائےوں اور ےمن و شام مےں بغاوت و خانہ جنگی کی وجہ سے حالات اتنے خراب ہوچکے ہےں کہ سعودی عرب گذشتہ دو سال سے اپنا سالانہ بجٹ خسارہ مےں بتارہا ہے اور شہرےوں کو دی جانے والی مراعات مےں بھی کمی کردی گئی ہے۔ اس کی وجہ ےہ ہےکہ سعودی عرب اپنے دفاع و سلامتی ، ےمن مےں حوثی باغےوں کے خلاف کارروائی اور شام مےں بشارالاسد و داعش کے خلاف کارروائےوں مےں حصہ لےنا اور اس مےں فوجی طاقت و تعاون فراہم کرنا ہے۔سعودی عرب سے لوٹنے والے تارکےن وطنوں کا کہنا ہےکہ جس طرح سعودی عرب کے حالات شاہ سلمان کے دور مےں خراب ہوئے ہےں اس سے قبل کبھی نہےں دےکھے گئے۔ اب دےکھنا ہےکہ مستقبل قرےب مےں سعودی عرب کی معےشت مستحکم ہوپاتی ہے ےا ےہ مزےد پستی کی طرف جاتی ہے اگر مشرقِ وسطی کے حالات معمول پر آتے ہےں تواس سے تمام اسلامی ممالک مستحکم ہوسکتے ہےں ورنہ مزےد نقصانات برداشت کرنا پڑھےں گے اور ہزاروں ہند وپاک و دےگر ممالک کے تارکےن وطنوں کو اپنے اپنے ملک واپس لوٹنے کے انتظامات کرلےنے ہونگے کےونکہ جن کمپنےوں ےا اداروں مےں ہندو پاک کے ملازمےن کام کررہے ہےں انہےں تنخواہےں بھی پہلے کی طرح نہےں دی جارہی ہے اس مےں کئی فےصد کمی کردی گئی ہے ۰۰۰
عرب سربراہان القدس کی حفاظت کیلئے ٹھوس حکمت عملی بنائے،مفتی اعظم
گذشتہ دنوں مفتی اعظم فلسطین و ممتاز عالم دین الشیخ محمد حسین نے عرب لیگ پر زور دیا ہے کہ وہ بیت المقدس اور مسجد اقصی کی حفاظت کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کرے، صہیونی ریاست کی مجرمانہ ہٹ دھرمی، بین الاقوامی برادری اور عالمی قراردادوں کیلئے ایک چیلنج ہے، مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ دشمن امن نہیں چاہتا، اسرائیل فلسطینی قوم سے وطن چھیننے کی سازشیں کررہا ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے الشےخ محمد حسےن نے مستقبل قرےب مےں عرب لیگ کے اردن کی میزبانی میں ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس کو اہمیت کی حامل قرار دیا ۔انہوں نے عرب سربراہ قیادت پر زور دیا کہ وہ بیت المقدس کے تحفظ اور قبلہ اول کے دفاع کیلئے ٹھوس حکمت عملی اپنائے۔صہیونی پارلیمنٹ کی جانب سے فلسطینی اراضی غصب کرنے کو اسرائیل کا قانونی حق قرار دینے سے متعلق قانون کی منظوری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت قانون اور پارلیمنٹ کا سہارا لے کر فلسطینی اراضی اور املاک پرقبضہ کرتے ہوئے فلسطینی قوم کو زبردستی ہجرت پرمجبورکرنا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صہیونی ریاست بیت المقدس کو یہودیانے اور مسلمانوں کو ان کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی سے محروم کرنے کی سازشیں کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی اراضی غصب کرنے کو جائز قرار دینے کا قانون بین الاقوامی قراردادوں اور عالمی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی کنیسٹ کے اس فیصلے سے ثابت ہوگیا ہے کہ فلسطینی قوم کا دشمن امن نہیں چاہتا بلکہ ارض فلسطین پرغاصبانہ قبضے کو وسعت دینے سے روکنے کے عالمی مطالبات کو بھی مسلسل نظر انداز کررہا ہے۔مفتی اعظم فلسطین نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطین میں اپنے مظالم اور یہودی توسیع پسندی کی تمام حدیں پار کردی ہیں، صہیونی ریاست کی مجرمانہ ہٹ دھرمی بین الاقوامی برادری اور عالمی قراردادوں کیلئے بھی ایک کھلا چیلنج ہے۔انہوں نے فلسطین میں اسرائیلی مظالم، فلسطینیوں کی املاک کی لوٹ پر عالمی برادری کی خاموشی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اسرائیل فلسطینی قوم سے ان کا وطن چھیننے کی سازشیں کررہا ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔الشیخ محمد حسین نے کہا کہ مسجد اقصی اور بیت المقدس صرف فلسطینیوں کی نہیں پوری مسلم امہ کا قبلہ اول ہے اور اس کے دفاع اور حفاظت کی ذمہ داری بھی تمام مسلمان ممالک پر عائد ہوتی ہے۔قبلہ اول کی مسلسل بے حرمتی اور بیت المقدس میں یہودی توسیع پسندی پر عالمی اسلام کی مجرمانہ غفلت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فلسطینی مفتی اعظم نے کہا کہ مسلمان ممالک نے قبلہ اول کے دفاع اور القدس کے لیے اپنی ذمہ داریاں کما حقہ ادا نہیں کی ہیں۔ مسلمان اور عرب ممالک اپنے فرائض انجام دیتے تو صہیونی آج قبلہ اول پر قابض نہ ہوتے۔مفتی اعظم کے بےان پر عالم اسلام کا ردّ عمل کس طرح ہوگا ےہ تو آنے والا وقت بتائے گا لےکن ذرائع ابلاغ کے مطابق اتنا ضرور ہے کہ ان دنوں عالم اسلام کے کئی ممالک،اسرائےل کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کو ترجےح دے رہے ہےں اس کی اےک وجہ ےہ بتائی جارہی ہے کہ مسالک کی بنےاد پر جو مسلمانوں کا قتل عام مشرقِ وسطی مےں ہورہا ہے اس مےں اےک طرف سنی ممالک دکھائی دےتے ہےں تودوسری جانب اےران اور شےعہ ملےشےاءہے ۔ذرائع ابلاغ کے ذرےعہ اسرائےل کے تعلقات اےران کے ساتھ خراب بتائے جاتے ہےںدونوں ممالک اےک دوسرے کی دشمنی مےں آگے آگے نظر آتے ہےں جبکہ سعودی عرب اور دےگر اسلامی ممالک اسرائےل کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے مےں کوشاں نظر آتے ہےںےہی وجہ ہے کہ مفتی اعظم فلسطےن عرب سربراہان پر زور دےا ہے کہ وہ اسرائےل پر دباﺅ ڈالےں کہ فلسطےنی عوام پر کی جانے والی ظلم و زےادتی کا سدّباب ہو ۔ اگر واقعی عالم اسلام کے تعلقات اسرائےل سے بہتر ہوتے ہےں تو پھر فلسطےن مےں اسرائےل اپنے منصوبوں مےں کامےابی کی سمت رواں دواں ہوگا اور مظلوم فلسطےنی اپنی لڑائی خود پتھروں سے لڑتے رہےں اور دنےا اس کا تماشا دےکھتی رہے گی جےسا کہ ماضی اور حال مےں دےکھ رہی ہے۰۰۰۰
سعودی عرب کی جانب سے محصورین غزہ کیلئے 80ملین ڈالر کی امداد
سعودی عرب کی جانب سے محصورین غزہ کیلئے 80ملین ڈالر کی امداد فراہم کی گئی ہے۔ یہ رقم اقوام متحدہ کے امدادی اداروںیو این ڈی پی، ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی اونروا اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارت محنت کی طرف سے دی گئی ہے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغکے مطابق فلسطینی وزارت محنت و ہاﺅزنگ کے وزیر مفید الحساینہ نے بتایا کہ سعودی عرب کی طرف سے 80ملین ڈالر کی رقم کا عطیہ فراہم کیا گیا ہے۔ اس رقم کو اقوام متحدہ کے اداروں UNDP اور اونروا کے توسط سے خرچ کےا جائےگا جبکہ رقم کا ایک بڑا حصہ وزارت لیبر کے ذریعے خرچ کیا جائے گا۔مفید الحساینہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ سعودی عرب کی طرف سے فراہم کردہ 80ملین ڈالر میں سے 40ملین ڈالر کی رقم غزہ کی پٹی میں پناہ گزینوں کیلئے مکانات کی تعمیر کیلئے خرچ کی جائے گی۔ اس رقم سے غزہ میں 1300فلسطینی پناہ گزین خاندان مستفید ہونگے۔ ان چالیس ملین ڈالرز میں سے 10ملین ڈالرز کی رقم سے UNDP کے پروگرامات پر صرف کی جائے گی جس سے 274فلسطینی مستفید ہونگے۔اس رقم میں سے 4.5ملین ڈالر کی رقم کی نئی قسط سے 550فلسطینی مستفید ہونگے۔ اس رقم سے اسرائیلی بمباری میں تباہ ہونے والے مکانات تعمیر کئے جائیں گے۔ اسی پروجیکٹ میں اردن کے ترقیاتی فنڈ کے 5ملین ڈالر بھی شامل ہیں جس سے 667 فلسطینی مستفید ہونگے۔ خیال رہے کہ کویت اب تک غزہ کی پٹی میں تعمیراتی منصوبوں کے لیے 62.5 ملین ڈالر کی رقم خرچ کرچکا ہے۔فلسطینی وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب اور کویتی فنڈ کی مدد سے غزہ میں 3.5 ملین ڈالر کی رقم صنعتی یونٹس پرصرف کی جائے گی۔ یہ رقم جلد ہی جاری کردی جائے گی۔ایک سوال کے جواب میں مفید الحساینہ نے کہا کہ غزہ میں تعمیراتی پروجیکٹس کے آغاز سے اب تک چھ لاکھ ٹن سیمنٹ یومیہ چار ہزار ٹن کے اوسط سے استعمال کی جا چکی ہے۔ اس طرح غزہ ،فلسطےن کے مظلوموں کے لئے عالم اسلام مدد کررہا ہے لےکن ضروری ہے کہ مستقبل مےں اسرائےل غزہ کے ان مظلوموں پر پھر سے مظالم کا سلسلہ نہ شروع کرے ورنہ عالم اسلام کا اتنا بڑا تعاون بےکار ہوجائے گا۰۰۰
متحدہ عرب امارات کی سوڈان کے یتیم بچوں کو امداد
دنےا مےں کئی ترقی ےافتہ ممالک عالمی سطح پر کسی نہ کسی ظلم و زےادتی ےا آفات ناگہانی کے شکار افراد کی مدد کرتے ہےں ۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ان ہی ممالک مےں شامل ہےں جو امدادی کاموں مےں بڑھ چڑھ کر حصہ لےتے ہےں۔ گذشتہ دنوں ہلال احمر متحدہ عرب امارات (ای آر سی) نے سوڈان کے 7 ہزار 692 یتیم بچوں کی امداد کےلئے 33.850 ملین درہم کا عطیہ سوڈان کوعطیہ دےا ۔متحدہ عرب امارات کے خبر رساں ادارے وام کے مطابق امدادی رقم کا چیک سوڈان میں متحدہ عرب امارات کے سفیرحماد محمد الجنیبی نے سوڈان کی ہلال احمر سوسائیٹی (ایس آر سی ایس ) کے سیکرٹری جنرل اوسامہ جعفر عبداللہ ،اور دیگر کی موجودگی میں فراہم کیا ۔ یہ عطیہ صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان، نائب صدر وزیراعظم و دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المختوم، دبئی کے ولی عہداورمتحدہ عرب امارات کی مسلح فورسزکے ڈپٹی سپریم کمانڈرشیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایت پر دیا گیا ۔ الجنیبی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کے فریم ورک کے تحت سوڈان کو انسانی بنیادوں پر امداد جاری رکھے گا۔ےتم بچوں کو دی جانے والی ےہ امداد اہمےت کی حامل ہے کےونکہ ان بچوں کی نگہداشت کے علاوہ انکی تعلےم و تربےت پر خرچ کی جائے گی جس سے مستقبل مےں کئی ےتےم بچے پڑھ لکھ کر سوڈان کی ترقی و خوشحالی کے لئے ثمر آور ثابت ہونگے۔(ےو اےن اےن)