SHARE

پروفیسرمحسن عثمانی ندوی
جب کوئی عدالت کسی شخص کو یا چند اشخاص کو پھانسی کی سزا سنادیتی ہے تو اس سزا پر عمل در آمد میں ایک طویل مدت کا وقفہ ہوتا ہے ، اس وقفہ میں ملزم ڈرا سہما رہتا ہے لیکن کھانا بھی کھاتا ہے آرام بھ©ی کرتا ہے رات کو بستر پر سوتا بھی ہے ، کچھ یہی وقفہ ایک پوری قوم کوملا ہوا ہے۔ جسے پھانسی کی سزااکثریت کی پارٹی کی طرف سے ملی ہے جو اقتدار کی دہلیزپر قدم رکھ چکی ہے۔ الیکشن مینو فیسٹو اور مختلف بیانات کے ذریعہ سزا ببانگ دہل مل چکی ہے اور اس قوم کو مل چکی ہے جس نے سیکڑوں سال رواداری انصاف اور شرافت کے ساتھ اس ملک پر حکومت کی ہے ۔یہ سزامسلمانوں کے جسمانی وجود کو نہیں دی جائے گی بلکہ مذہبی اور تہذیبی وجود کو دی جائے گی۔ جوجسمانی وجود کی سزا سے زیادہ سخت سزا ہے ۔ اس سزا پر عمل اس وقت ہوگا جب اکثریت قانون اور دستور بدلنے کی پوزیشن میں ہوجائے گی۔ مسلمانوں میں بہت سے ایسے بے حس افراد بھی مل جائیں گے جن کے لئے یہ سب کچھ زیادہ پریشان کن نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ پھانسی جسمانی وجود کو نہیں دی جائے گی !ہماری قوم میں ایسے افراد کی کمی نہیں جن کے لئے مذہب اور تہذیبی وجود کی زیادہ اہمیت نہیں ہے ۔لیکن انہیں شاید علم نہیں کہ ان سے نفرت کی وجہ سے ان کے جسموں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا ،ان کے آشیانوں کو بھی آگ لگائی جائے گی ۔مخالفت اور دشمنی کا ایک طوفان ہے اورپوری مسلم قوم کوجس کا اب سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور پوری قوم کا مستقبل اس شعر کے مصداق ہے
دام ہر موج میں ہے حلقہ صد کام نہنگ
دیکھیں کیا گذرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
سوال یہ ہے کہ اس طوفان کوکیسے روکا جاسکتا ہے ؟ یوںتو اس منافرت کے طوفان کو روکنے کی ذمہ داری ہر شریف ہندوستانی کی ہے لیکن چونکہ اس کی زد سب سے زیادہ اقلیت پر پڑتی ہے اس لئے اس طوفان کو روکنے کی اورمذہبی اور تہذیبی پھانسی کے فیصلے کو بدلنے کی سب سے زیادہ ذمہ داری اقلیت کے باشعور اشخاص پر عائد ہوتی ہے ۔ان علماءپرعائد ہوتی ہے، جنہیں اللہ نے کتاب کا علم دیا ہے ۔ہمیں ناامید نہیں ہونا چاہئے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ہم صحیح لائحہ عمل مرتب کریں اور اس کو عملی جامہ پہنائیں ، ہم روڈ میپ بنائیں اور اس پر سفر شروع کریں ،ہم کام کا خاکہ بنائیں اور اس میں رنگ بھریں،ہم نے ہندوستان میں وہی غلطی کی ہے جو اسپین میں کی تھی، اسپین میں بڑے بڑے مسلمان علماءاور فضلاءاور ادبا پیدا ہوئے تھے لیکن اسپین میں مسلمانوں نے اکثریت کی آبادی کو اسلام سے قریب کرنے کی کی کوشش نہیں کی تھی،ہم نے بھی اس ملک میں لسان قوم اور دین قوم سے واقف ہونے کی کوشش نہیں کی ۔ اور ہم نے لسان قوم کے ذریعہ اسلام کا تعارف نہیں کرایا ۔ قرآن میں ہے وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ یعنی ہم نے جب بھی رسول بھیجے تو وہ اپنی قوم کی زبان میں بات کرتے تھے ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ علماءکے لئے جو اپنے فرض منصبی کے لحاظ سے نائبین رسول ہیں لسان قوم سے واقف ہونا ضروری ہے، اب اس وسیع و عریض ملک میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے علماءدرکار ہیں جو برادران وطن سے ڈائیلاگ کرنے اور ان سے ہم کلام ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور برادران وطن کے مذہب سے اور ان کی تہذیب سے ان کی تاریخ سے ان کی نفسیات سے اس طرح سے واقف ہوں جس طرح سے ابو ریحان البیرونی واقف تھا ۔ دینی مدارس کا ایک جال ہے جو پورے ملک میںپھیلا ہوا ہے ۔ ان دینی مدارس کے فارغیں بلا شبہ مساجد میں اور ہم قوم لوگوں کی محفلوں میں اردوئے معلی میں خطابت کے جو ہر دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، لیکن اگر برادران وطن کے مجمع میں ان کوکھڑا کردیا جائے تو ان کی زبان میں لکنت آجاتی ہے ان کی طاقت لسانی ختم ہو جاتی ہے ، کیونکہ وہ انگریزی میں بات نہیں کرسکتے ،ہندی میں بات نہیں کرسکتے، علاقائی زبانوں میں بات نہیں کرسکتے ،وہ لسان قوم سے محروم ہیں، اور ہندو مذہب کا اور ہندوستانی مذاہب کا مطالعہ ان کا محدود نہیں بلکہ صفر ہے ۔ حالانکہ ایک عالم دین نائب رسول اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ لسان قوم سے واقف ہو ۔ہماری غلطیوں کی وجہ سے اس وقت اب صورت حال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ یہ مسئلہ اب فکری مسئلہ نہیں رہا بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے۔ اگر مذہبی اور تہذیبی وجود کے ساتھ یہاں رہنا ہے تو لسان قوم سے واقف ہونا اور دین قوم سے واقف ہونا ضروری ہے ۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں انقلابی تبدیلی کی جائے ۔جب ندوة العلماءاور دار العلوم دیوبند اور دوسرے مدارس سے ایک طالب علم عالم کی سند لے کر نکلے تو وہ ہندو مذہب سے پوری طور واقف ہو اور ہندی اور انگریزی میں اپنا مافی الضمیرادا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہو ۔اور ہندو مذہبی قائدین کو پورے اعتماد کے ساتھ مکالمات کرنے کی دعوت دے سکتاہو ۔مجھے اندیشہ ہے کہ اس تجویز کے جواب میں بعض مدارس کے ذمہ دار یہ کہیں گے کہ ہم نے اپنے یہاں دعوت کا اور مطالعہ مذاہب کا شعبہ قائم کر رکھا ہے ۔اس طرح کا جواب صرف وہ حضرات دے سکتے ہیں جنہیں صورت حال کی سنگینی کا پوار اندازہ نہیں ہے اور انہوں نے شتر مرع کی طرح اپنا منہ ریت میں چھپا رکھا ہے اور یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم محفوظ ہیں اورہماری گردن کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ہمیں علم ہے کہ دینی مدارس میں ۹۹ فی صد طلبہ عالم اور فاضل کا کورس مکمل کرنے کے بعد شعبہ دعوت کے ایک سالہ کورس میں داخلہ نہیںلیتے ہیں اور جو ایک فی صد سے کم داخلہ لیتے ہیں وہ کسی کام کے لائق نہیں ہوتے ہیں اور وہ ”نے محقق بود نہ دانشمند “ کے مصداق ہوتے ہیں اس وقت رجوع الی اللہ کے بعد کرنے کا کام یہ ہے کہ(۱) درجہ اول عربی سے ہندی زبان انگریزی زبان اور ہندوستانی مذ۱ہب کو نصاب میں داخل ہونا چاہئے تاکہ ہر عالم دین برادران وطن کو خطاب کرنے کا اہل ہو سکے۔اور ہندوﺅں کی مذہبی کتابوں میں کیا ہے اس کا اسے علم ہو ۔افسوس ہے کہ اب بھی اور ان سنگین حالات میں بھی علماءدین اس تجویز پر غور کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں اور وہ صاف کہتے ہیں باہر کی دنیا میں کچھ بھی ہوتا رہے ہم نہ بدلے ہیں اور نہ کبھی بدلیں گے اور یکسوئی کے ساتھ اپنا مشغلہ جاری رکھیں گے ۔
(۲)دوسرا کام مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ اپنی نافعیت اور افادیت ثابت کرنی ہے حدیث میں ہے خیر الناس من ینفع الناس یعنی لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جوزیادہ نفع بخش ہو اس دنیا میں بقائے انفع اور بقائے اصلح کا قانون نافذ ہے۔ اس لئے اپنی نفع بخشی اور اپنی افادیت کا سکہ برادران وطن کے دلوں پر جما نا ہے ۔اور لوگوں کے دلوں کو جیتنے کی کوشش کرنا ہے ۔ جو دلوںکو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ۔
(۳)تیسرا کام مسلمانوں کی نئی نسل کو تعلیم وہنر سے آراستہ کرنا ہے۔ علم وہنر مسلمانوں کی شناخت ہونی چاہئے جو قوم تاریخ میں تمام علوم وفنون میں ہراول دستہ کی حیثیت رکھتی تھی وہ سب سے پسماندہ بن گئی ہے ۔ ہمیں پسماندگی دور کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے ہمیں ان تینوں میدان میں پیش رفت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے ۔ہم اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کرسکتے ہیں ۔ اب تینوں کاموں کو ” وار فوٹنگ “ پر ہونا چاہئے اور ہر شخص کو اپنے حصہ کا کام فورا ًشروع کردینا چاہئے ۔
ہمیں خود احتسابی سے بھی کام لینا چاہئے بابری مسجد کا مسئلہ ۰۹۹۱ کے آس پاس کوہ آتش فشان بن گیا تھا اور اب بھی ہم کوہ آتش فشاں کے دہانہ پر ہیں ، اس سلسلہ میں مولانا علی میاں اور مولانا عبد الکریم پاریکھ اور یونس سلیم صاحب سابق گورنربہار غیر مسلموں اور برادران وطن کے مذہبی قائدین سے مل کر مسئلہ کے حل تک پہونچ گئے تھے۔ مسلمانوں کی نمائندگی کے لئے مسٹر چندر شیکھر کے کہنے پرمولانا علی میاں کا نام تجویز ہوا تھا ہندو اکثریت کی نمائندگی کے لئے کانچی پورم کے شنکر آچاریہ کا نام تجویز کیا گیا تھا وےی پی سنگھ نے زمین کے سلسلہ میں آرڈیننس پاس کردیا تھا جسے بعد میں واپس لے لیا گیا ، آندھرا پردیش کے گورنر کرشن کانت اور جینی مذہب کے سوشیل منی اور ہندوﺅں کے سب سے بڑے گرو شنکر آچاریہ آنند سرسوتی نے حل کو منظور ی دے دی تھی اور حل یہ تھا کہ بابری مسجد اپنی جگہ پر رہے گی ، مورتیاں ہٹائی جائیں گی، اسے نماز کےلئے کھول دیا جائے گا مسجد، کے چاروں طرف تیس فٹ کا تالاب رہے گا اور اس کے بعد ریلنگ ہو گی اور ضرورت پڑنے پر اس پر کرنٹ دوڑایا جائے گا ۔ اس کے بعد جو بابری مسجد وقف کی زمین ہو گی اس پر رام مندر تعمیر کرلیا جائے گا اور مسلمان اس پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے ۔ لیکن مسلمانوں نے اس حل پر اعتراض ہی نہیں کیا بلکہ آسمان سر پر اٹھا لیا ۔ مجبورا ًمولانا علی میاں اور مولانا پاریکھ کو صلح کے فارمولے سے دستبردار ہوجانا پڑا،شور و غوغا کرنے والوں میں وہ بھی تھے جن کا تعلق بابری مسجد ایکشن کمیٹی سے تھا اور وہ جامد الفکر اور بے شعور علماءبھی تھے جن کا کہنا تھا کہ ہم وقف کی ایک انچ زمین رام مندر کے حوالہ نہیں کرسکتے ہیں اوروہ اصول فقہ کے حوالے دے رہے تھے جیسے کہ ہم بنی امیہ اور بنی عباس کے عہد میں جی رہے ہوں، حالانکہ دعوتی نقطہ نظر سے باہمی احترام واعتماد کی فضا پیدا کرنا ضروری تھا اس کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک کے علماءفقہ الاقلیات سے متعلق اپنی رائے میں لچک رکھتے ہیں اور جو ملک دار الاسلام نہ ہو وہاں کے بعض فقہی مسائل میں دفع مضرت کے تحت نرمی اختیار کرنے کے قائل ہیں ۔آج بابری مسجد کا وجود ختم ہوچکا ہے اور آئندہ اس کی تعمیر کا بھی کوئی امکان نہیں ہے ، اور اس کے لئے ہزاروں مسلمانوں کی جانیں ضائع ہوچکی ہیں ۔کوئی بتائے کہ آخر یہ خون دوعالم کس کی گردن پر ہے؟(ےو اےن اےن)