SHARE

میں لکھنا چاہتا ہوں مجھ کو رہنمائی دے
مرے خدا مجھے تھوڑی سی روشنائی دے
میں جو بھی لکھتا ہوں اس پر رہے عمل میرا
صدا حروف کی ہر دم مجھے سنائی دے

” کئے پر“

گزشتہ دنوں بیرون شہر کے ایک وفد کے ساتھ ایک گورنمنٹ اردو ماڈل پرائمری اسکول جانے کا اتفاق ہوا۔احاطے میںکیا داخل ہوئے کہ کھلے ہوئے بیت الخلاءکے، فضاءکو بدبودار کردینے والے تعفن نے، وفد کے سارے احباب کی ناکوں کے صحت مند کیڑوں کو بیمار کرڈالا۔غالباً کچھ ڈیڑھ گھنٹے تک اس اسکول میں ٹھہرنا ہمارا مقدر تھا، اس ڈیڑھ گھنٹے تک سارا وفد اس تعفن سے جوجھتا رہا،ہم نے اس مہمان وفد کو اسکول کے ذمہ داروں کے حوالے کیا اور تنہا پورے اسکول کا معائنہ کرنے نکل پڑے، اگرچہ کہ ہم نے یہاں بے ڈھنگے پن کی حدیں توڑتی ہوئی کئی بے اصولیاں دیکھیں، مگر…. ان کا تذکرہ یہاں ضروری نہیں ہے۔
لیکن…. جو بات ہمیں بے پناہ کھٹکی وہ یہاں کے بیت الخلاءتھے، جو انسانی غلاظت اور گندگی سے لبریز ہوکر ابل پڑ رہے تھے،اور اس پر مزید یہ کہ مکھیوں کی بھنبھناہٹ کے درمیان الٹیاں کرنے پر مجبور کردینے والی پیشاب کی بدبو …. یہی وہ تعفن تھا جس نے ساری اسکول کی آب و ہوا کو ناقابل برداشت بناڈالا تھا….
کسی بھی انسان کے لئے یہ بڑی شرم کی بات ہوتی ہے کہ اس کا فضلہ اور اس کے جسم سے نکلنے والی گندگی پر کسی دوسرے کی نظر پڑجائے۔بیت الخلاءایک ایسا پرائیویٹ کمرہ ہوتا ہے جہاں سخت ضرورت پر ہی جایا جاتا ہے اور وہاں انسان اپنے اندر موجود ساری گندگیاں خالی کرکے راحت کا سانس لے کر باہر نکلتا ہے اور اس راحت و سکون پر رب العزت کا شکر اداکرتا ہے ۔
بیت الخلاءمیں جو عمل ہوتا ہے ، وہ پوشیدگی چاہتا ہے ، سب کے سامنے وہ عمل انجام نہیں دیا جاسکتا۔ اس لئے کہ یہ عمل شرمندگی سے بھرپور ہوتا ہے ۔کوئی بھی انسان لوگوں کے سامنے کھلے عام یہ عمل انجام نہیں دے ڈالتا۔ وہ لوگوں کی نظروں سے دور ہو کر تنہائی میں اپنی غلاظت باہر نکالتا ہے ۔اور یہ عمل مکمل طور پر پردہ ہی پردہ چاہتا ہے ۔
آپ کبھی یہ نہیں چاہتے کہ آپ کی غلاظت اور آپ کی گندگی پر کسی کی نظر پڑجائے ،چاہے وہ آپ کے اپنے والدین اور بیوی بچے ہی کیوں نہ ہوں، اس عمل کے انجام دینے کے لئے پورے اہتمام کے ساتھ ایک کمرہ بنایا گیا ہے ،جہاں آپ جسمانی طور پر ”ہلکے“ ہوتے ہیں، تو جو گندگی آپ نے باہر نکالی ہے، اسے زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کرکے ایسا بہادیجئے کہ آپ کی گندگی کے ایک ذرہ کا نشان بھی وہاں باقی نہ رہے اور آپ کے بعد اس کمرہ کا استعمال کرنے والا پورے سکون اور اطمینان سے اپنا کام انجام دے لے ۔
آپ کے لئے یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ آپ ،بیت الخلاءمیں اپنی گندگی عوام الناس کے ”درشن “ کے لئے یونہی چھوڑ آئیں،یقین مانئے ، آپ کے بعد جو بھی اس کمرہ میںداخل ہوگا، اور وہ آپ کی گندگی پر نظر ڈالے ، تو اس کے دل میں آپ کی عزت اورآپ کے احترام میں کمی واقع ہوتی چلی جائے گی۔ جس گندگی کی حفاظت کے لئے رب العزت نے انسان کے پیٹ میں بڑی آنت بنائی، پھر اس کی حفاظت کے لئے پیٹ کا ایک پورا ماحول بنایا ، جس کی حفاظت کے لئے رب العزت نے اعلیٰ ترین قسم کی جلد تیار کرڈالی اور جسے چھپانے کے لئے اللہ پاک نے خوبصورت ترین انسانی پیاک Pack تیار کیا، جس گندگی کی اتنے عمدہ طریقے سے رب العالمین نے پردہ پوشی فرمائی، آپ اسے باہر نکالنے کے بعد ”بے پردہ“ کیسے چھوڑ آسکتے ہیں؟
اپنی گندگی کو پانی کے ذریعہ بہائے بغیر یونہی کھلے عام چھوڑ آنا ، اگرچہ کہ یہ ایک چھوٹا سا عمل ہے لیکن یہ ایک عمل ظاہر کرتا ہے کہ آپ اپنی بقیہ زندگی میں کس قدر بے ڈھنگے ہیں، زندگی گزارنے کے کچھ آداب ، کچھ اصول اور کچھ طریقے ہیں، یہ ایک عمل یہ بتا دیتا ہے کہ آپ کتنے بے ڈھنگے ، کتنے بے ادب اور بے طریق انسان ہیں۔
قارئین کرام ! نبی صادق علیہ السلام کا ارشاد مبارک ہے کہ پاک صاف رہو، اس لئے کہ اسلام پاکیزہ مذہب ہے ، پاکی آدھا ایمان ہے ….شریعت نے جہاں نگاہ کی پاکی، دل و دماغ کی پاکی، جسم کی پاکی، کپڑوں اور جگہ کی پاکی پر زور دیا وہیں اس پر بھی زور دیا آدمی جتنی بھی چیزیں اپنے استعمال میں لاتا ہے ، وہ سب پاک و صاف ہوں، یقینا بیت الخلاءبھی آپ کے اپنے استعمال کی جگہ ہے ، اسے پاک صاف رکھیں اور دوسروں پر اپنی گندگی ظاہر کرکے اپنی عزت اور مقام و مرتبہ میںکمی نہ لائیں اور دوسروں کی نگاہ میں اپنی عزت نہ گنوالیں۔
اللہ پاک نے دنیا کی ہر چیز بہت خوبصورت بنائی ہے ، اس خوبصورتی کو اپنی گندگیوں سے ناپاک یا عیب دار بنا کر بدصورت نہ بنائیں ۔ بیت الخلاءبھی آپ کے گھر کا ایک انتہائی ضروری حصہ ہے ، اس کی صفائی ، ستھرائی اور پاکی کا بھرپور خیال رکھیں۔ جب بھی اس کا استعمال کریں ، اس کے پورے آداب کے ساتھ استعمال کریں، آخر میں آپ سے دل کی گہرائیوں سے ہماری استدعا ہے کہ ….
” ….براہ کرم اپنے ….” کئے پر “ …. خوب پانی پھیردیجئے “۔(ےو اےن اےن)