SHARE

ریاض عظیم آبادی (ےو اےن اےن)
مارچ کے مہینے میں سرکاری دفاتر میں مارچ لوٹ کی تیاری تھی تودوسری طرف اردو زبان کی تین عظیم تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔دو روزہ عالمیءاردو کانفرنس، دو روزہ بین الاقوامی ادبی وتہذیبی جشن اوردو روزہ جشن اردو یعنی ۱۲ مارچ سے ۶۲ مارچ تک اردو کے شیدائی جشن میں ڈوبے رہے میں تمام روز اردو صحافت کو تلاش کرتا رہا۔اردو کے صحافی تو نظر آئے لیکن اردو صحافت کو کسی نے پوچھا تک نہیں۔ایسا لگا جیسے اردو صحافت کا ’اردو‘ سے کوئی رشتہ ہی نہیں ہے، اگر ہے تو اسکا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔
۱۲۔۲۲ مارچ کو بہار اردو اکادمی کے زیر اہتمام عالمی اردو کانفرنس کا اہتمام شاندار طور پر اختتام پذیر ہوا جس میں کناڈا،بحرین،قطر،جدہ،تہران ،دوحہ اور آسٹریلیا ۷ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔اسکے علاوہ ملک کے مختلف شہروں کے شاعر ،ادیب اور دانشوران بھی مو جود تھے۔بزم صدف انٹرنشنل نے ۴۲۔۵۲ مارچ کو بین الاقوامی ادبی و تہذیبی جشن کے ذریعہ سر سید احمد خاں کو خراج عقیدت پیش کیا تو ۵۲۔۶۲ مارچ کو اردو ڈائرٹو ریٹ نے جشن اردو کا شاندار انعقاد کیا گیا۔گورنر بہار،وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی پرساد یادو اور وزیر برائے اقلیتی فلاح نے شرکت درج کی۔وزیر تعلیم نے تمام تقریبات کا ایک طرح سے بائکاٹ کیا۔ڈائر کٹراین سی پی یوایل دہلی کے علاوہ علی گڑھ سے بھی اردو کے مایا ناز ادیب شریک تھے۔اردو کے اہم صحافی حضرات تو شامل تھے لیکن صحافت کو اس طرح نظر انداز کر دیا گیا جیسے اردو صحافت کا کوئی رشتہ اردوزبان سے ہے ہی نہیں۔
عظیم آباد کے اردو دوستوںکو پہلی بار یہ احساس ضرور ہوا کہ اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے۔
بہار اردو اکادمی کو اردو بھون سے نکال کر عام اردو دوستوں کے درمیان لانے کی مہم شروع کی گئی ہے اسکا شاندار مظاہرہ عالمی اردو کانفرنس میں دیکھنے کو ملا۔پروفسر ارتضیٰ کریم کا تعلق بہار سے ہے،مشتاق نوری کا ساتھ ملا تو نتیجہ عالمی کانفرنس کی شکل میں نمودار ہوا۔’اردو زبان و ادب: ہند اور بیرون ہند‘ کے موضوع پر منعقد عالمی کانفرنس کا افتتاح،گورنر بہار جناب رام ناتھ کو وند نے کیا اور صدارت ڈاکٹر عبدالغفور،وزیر اقلیتی فلاح ،حکومت بہار نے کی۔امجد علی سرور(بحرین)شہاب الدین احمد، ( قطر)محترمہ وفا یزدان منش(تحران) جاوید دانش(کناڈا) اشرف شاد(آسٹریلیا)عتیق انظر ،ندیم ماہر اور احمد اشفاق(دوحہ) ،مہتاب قدر (جدہ) بیرون ہندستان سے شریک ہوئے۔ان کے علاوہ پروفیسر علیم اللہ حالی،ڈاکٹر اعجاز علی ارشد، سلطان اختر،پروفیسر طلحہ ر ضوی برق، پروفیسر عبد الصمدڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی،شموئل احمد،پروفیسر رئیس احمد، ڈاکٹر ممتاز احمد خان، طارق متین ، قاسم خورشید،پروفیسر مننان طرزی ، ڈاکٹر عابد نقوی،شمیم قاسمی،ڈاکٹر حامد علی خان،ڈاکٹر ارشد مسعود ہاشمی،ڈاکٹر مشتاق احمد،شفیع مشہدی،ڈاکٹر جاوید
حیات، ڈاکٹر شاہد جمیل انوارالحسن وسطوی، ڈاکٹر ریحان غنی، ڈاکٹر احمد کفیل ریاض عظیم آبادی ،ڈاکٹر زر نگار یاسمین بہار سے،ڈاکٹر ہمایوں اشرف جھارکھنڈ سے،ڈاکٹر زاہدلحق حیدر آباد سے،ڈاکٹر خالد سیف اللہ ا ور پروفیسر صغیر افراہیم،خورشید اکبر پٹنہ سے۔علی گڑھ سے،ڈاکٹر واحد نظیر دہلی سے تشریف لائے۔
یہ عالمی کانفرنس تھی۔مشتاق نوری اب صرف فکشن نگار اور شاعر نہ رہ کر بہار کے مستند صحافی بھی ہو چکے ہیں۔مختلف ممالک میں اردو کی صحافتی سرگرمیوں کا احاطہ کیا جا سکتا تھا لیکن صحافت کو نظر انداز کر دیا گیا۔۴۲ اور ۵۲ مارچ کو بزم صدف انٹر نشنل کی جانب سے دو روزہ ادبی و تہذیبی جشن کا انعقاد کیا گیا۔درجن بھر کتابوں کا رسم اجرا کیا گیا۔سر سید احمد خاں دو صد سالہ تقریبات سیمینار میں دہلی کے شافع قدوائی نے کلیدی خطبہ پیش کیا،سلطان اختر کی شاعری پر مقالہ پیش کیا گیا۔میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ ا دبی و تہذیبی سیمینار میں اردو صحافت کا ذکر تک کیوں نہیں کیا گیا۔
اس میں شک نہیں کہ حکومت بہار محکمہ کابینہ سکریٹیریٹ،اردو ڈائرکٹوریٹ نے ۵۲۔۶۲ مارچ کو پٹنہ کے کرشن میموریل ہال میں جشن اردو کا شاندار دو روزہ تقریب کا انعقاد کیا۔اردو مشاورتی کمیٹی قانون اردو کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے۔زمینی حقیقت یہ ہے کہ ڈیڑھ برسوں کی مدت میں کمیٹی دفاتر میں افسران کی نیم پلیٹ اردو لکھوانے،اردو تعلیم کا جائزہ لینے،تمام شہروں ،خاصکر پٹنہ کی گلیوں چوراہوں اور سڑکوں کی جانکاری کے لیے جو بڑے بڑے نشانات لگائے گئے ہیں وہ سبھی ہندی میں ہیں اردو کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ دہلی میں ایسے نشانات ہندی،انگریزی،اردو اور پنجابی میں لگے ہیں۔ پٹنہ کے میر افضل امام نے مجھ سے دو بار وعدیٰ کیا لیکن…. سرکاری اسکولوں میں اردو کی تعلیم شرمناک صورتحال میں ہے۔اردو کی خاتون اساتذہ کے درد کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہے۔تو پھر جشن کس بات کے لیے ؟ اپنے نکمے پن پر پردہ ڈالنے کے لیے یا تقریب کے چکا چوندھ میں اردو عوام کے دھیان کو بھٹکانے کے لیے؟سرکاری دفاتر مشاورتی کمیٹی کے مشوروں کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں تو اسکا کوئی حل تو تلاش کیا جائے ! اردو کے قانون کو نافذ کرانے میں میں ہم پوری طرح ناکام رہے ہیں اسکا اعتراف کیا جانا چاہیے تھا۔
جشن اردو کےافتتاحیاجلاس میں اسٹیج پرپروفیسر علیم اللہ حالی،ڈاکٹر اعجاز علی ارشد اور مشتاق نوری کی کمی کافی کھلی۔وزیر اعلیٰ نے تمام اسکولوں میں اردو اساتذہ کی تقرری کویقینی بنانے کا حکم دیا۔وزیر اعلیٰ کے اعلان میں سیاست نہیں بلکہ خلوص تھا جسکا پرجوش خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔
جشن اردو کے پہلے اجلاس میں’اردو زبان کے فروغ کے امکانات‘ کے موضوع پر سیمینار م کی صدارت پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے کی۔غضنفر نے محنت کی اور ۵۳ نکات گنائے جس سے اردو کا فروغ ممکن ہو سکتا ہے۔ ۵۳ نکام کی کاپی دستیاب نہ ہونے کی وجہہ سے میں شائع نہیں کر پا رہا ہوں۔صحافی ایس ایم اشرف فرید،احمد جاوید ،میجر بلویر سنگھا ڈاکٹر سید شہباز ، ڈاکٹر ریحان غنی ، زر نگار یاسمین اور محفوظ عالم نے اردو تحریک کا ذکر کیا لیکن اردو کا فروغ کیونکر ممکن ہے اسے فراموش کر دیا۔میں نے اپنی تقریر میں ۷ عزائم کوبتایا جسے اپنانے سے اردو کا فروغ ممکن ہے یعنی
۱۔ایسی تمام تقریبات(شادی ،ادبی محفل،جلسے وغیرہ) کا بائکاٹ کریں جسکے کارڈ میں اردو شامل نہ ہو۔
۲۔اردو کا ایک روزنامہ خرید کر پڑھنے کی عادت ڈالیں۔
۳۔مہینہ میں اردو کا ایک رسالہ ضرور خریدیں۔
۴۔اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم لازمی طور پر دلوائیں۔
۵۔اردو کتابوں کا مطالعہ کریں۔
۶۔اپنی دوکانوں کے سائن بورڈوں میں اور گھروں کی نیم پلیٹ میں اردو کو شامل کریں۔
۷۔ خطوط کے پتے اردو میں بھی لکھیں۔
مشتاق احمد نوری نے اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم دلانے پر زور دیا۔فخرالدین عارفی نے نہ صرف نظامت کی بلکہ اردو تحریک کے مختلف پہلوو¿ں کو اجاگر کیا۔
بہار کے چند مقتدرشاعر و ادیبوں پر اجلاس کی صدارت پروفیسر علیم اللہ حالی نے کی۔پروفیسر ابوالکام قاسمی،ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، وفیسر علی احمد فاطمی،پروفیسر مولانا بخش،ڈاکٹر جمیل اختر،معصوم عزیزکاظمی، ،ڈاکٹر شہاب ۱۔ایسی ،ڈاکٹر ابوبکر رضوی،ڈاکٹر محسن رضا رضوی نے اپنے مقالے پیش کیے۔
اردو میں طنزو مزاح نگاری کے موضوع پر منعقد سیمینار کی صدارت ڈاکٹر اعجاز علی ارشد نے کی،مہمان خصوصی پروفیسرعبدالصمد تھے۔ڈاکٹر سید احمد قادری،پروفسر کوثر مظہری،ڈاکٹر مشتاق صدف،ڈاکٹرظفر کمالی،نصرت ظہیراور اسد رضا نے اپنے مقالے پیش کیے
جشن اردو کوردو زبان کے لیے سنگ میل کا پتھر کہا جا سکتا ہے۔اردو ڈائرکٹوریٹ نے مقالہ نگار اور مقررین کو دسدس ہزار کا چک پیش کیا۔اردو دوستوں نے آل انڈیا مشاعرہ کا لطف لیا۔لیکن اعلان کے باوجود راحت اندوری ،وسیم بریلوی او ر منور رانا تشریف نہیں لائے۔اس بات کو سبھوں نے نوٹ کیا کہاردو تحریک کے ایک مضبوط ستون پروفیسر اسلم آزاد کسی بھی جلسے میں نظر نہیں آئے۔اردو اخبارات کے مدیران کو بھی نہیں دیکھا گیا۔ گیا۔یہ جشن اردو تھا نہ کہ جشن اردو ادیب و شاعر تھا۔جشن میں اردو داں ایم ایل اے اور ممبر قانون ساز کونسل کی تعداد بھی نہ کے برابر تھی۔اردو ڈائرکٹوریٹ کو امتیازحمد کریمی جیسا اردو کا دیوانہ اور فعال ڈائرکٹر مل گیا ہے،لیکن خورشید اکبر،شاہد جمیل اور اسلم جاویداں شاعر فکشن نگار اور تحریک کار بھی محکمہ راج بھاشہ میں ہیں۔محکمہ جاتی سازش اور منظم ٹیم کا فقدان صاف طور پر محسوس کیا گیا۔ملازمین اردو کثیر تعداد میں شامل ہوئے۔نامور ادیب و شاعر سے سجی ٹیم میں خلوص کے ساتھ تال میل ہوتا اور کچھ لوگ صرف اپنی موجودگی درج کرانے کی بجائے ڈائرکٹر اردو کے ساتھ تعاون کیے ہوتے تو جشن اردو تاریخ سازہو سکتا تھا۔جشن اردو میں پٹنہ یونیورسیٹی کے طلبہ کی سرگرم حصے داری نہیں نظر آئی۔ بے دریغ خرچ کیا گیا لیکن اکابرین اردو کا شامل نہ ہونا تشویش ناک ضرور تھا۔پٹنہ درجنوں کالج اور اردو اسکول اور مدارس ہیں لیکن ان اداروں کے اساتذہ اور طلبہ بھی نظر نہیں آئے۔ قانون اردو کے نفاذ کے لیے عملی اقدام کا فقدان ہے،اردو کے قانون کے نفاذ کے لیے سڑکوں پر اترنا ہوگا۔قانون کے نفاذ ن عوام کی شمولیت کے لیے ا یر کنڈیشن کمروں باہر نکلنا ہوگا۔پروفیسر عبدالصمد جب اردو مشاورتی کمیٹی کے صدر تھے تو سرکاری دفتروں میں اوراردوداں افراد کی دوکانوں میں جاکر قانون اردو کی اہمیت کو سمجھاتے تھے،نیم پلیٹ اردو میں لکھوانے کے لیے اپیل کرتے تھے۔جس ریاست کا وزیر اعلی اردو زبان کے لیے سنجیدہ ہو اس زبان کے قانون کا ریاست میں عملی نفاذ کی کمی پریشان کن ہے،سرکاری اسکولوں میں اردو کتابوں کی کمی،اردو تعلیم سے سرکاری اسکولو ںکی دوری ایک المناک صورتحال ہے۔ جس انجمن ترقی اردو کو حکومت خطیر گرانٹ دیتی ہے وہ چند افراد کی جیب میں کراہ رہی ہے۔اردو داں نوجوان نیم مردہ ہیںوہ ایسے لٹیروں کا گریباں پکڑنا نہیں چاہتے۔
تمام خامیوں کے ہوتے ہوئے بھی اردو اکادمی سکریٹری مشتاق احمد نوری دو نائب صدور مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ایک عالمی کانفرنس کے ذریعہاردو آبادی کو زندہ کرنے کی کوشش کی۔
اردو ڈائرکٹوریٹ وزیر اعلیٰ کے ماتحت محکمہ راج بھاشہ کے ماتحت ہے جسکی سرحدیں محدود ہیں لیکن پورے بہار کی اردو آبادی کو بیدار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔امتیاز کریمی کومجاہدانہ طور پر اردو کی خدمت کرنے کے لیے میں سلام کرتا ہوں۔میرا مشورہ ہوگا کے مرحوم اردوشاعروں ادیبوں یادگاری تقریبات کے علاوہزندہ شاعروں ادیبوں اور صحافیوں کی عزت افزائی کرنے کا سلسلہ شروع کریں تاکہ انہیں احساس ہو کہ انکی خدمات کو اردو آبادی ستائشی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ ڈیویزن کی بنیاد پر ملازمین اردو کا ورک شاپ کیا جائے اور انہیں عوام کے درمیان کام کرنے کا طریقہ بتایا جائے۔انہیں جلسوں میں اردو مشاورتی کمیٹی کے صدرشفیع مشہدی نے اردو زبان کو فروغ دینے کی بات کہی تھی۔اردو اکادمی اردو بھون سے نکل کرسبھی اضلاع کے تخلیق کاروں کو اکادمی سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔اردو ڈائرکٹوریٹ نے بھی اضلاع میں سیمینار اور جلسہ کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔اکادمی اور ڈائرکٹوریٹ کو ایک دوسرے کے تعاون کا سلسلہ بھی شروع کرنا چاہیے۔زبان کی زندگی کے لیے اسے روزی روٹی سے جوڑنا ضروری ہے۔نصف درجن تحریک کاروں کی خدمات لیکر ڈویزن اور ضلع کی سطح پر بھی ملازمین اردو کا ورک شاپ کرایا جا سکتا ہے۔تین کامیاب کانفرنسوں کا فائدہ اردو آبادی کو ملے اسکی کوشش شروع کر دینی چاہیے۔(ےو اےن اےن)(رابطہ9431421821)