SHARE

بھاجپاکو کن طبقات کا ووٹ ملا؟ اس بابت مختلف رپورٹےںبتارہی ہےں کہ بی جے پی کو سبھی طبقات کا ووٹ ملا ہے۔ ےہاں تک کہ دلت اور مسلم ووٹ بھی بھاجپاکو حاصل ہوا۔اس کی سب سے بڑی دلےل ےہ ہے کہ اگردلت ووٹ بھاجپاکو نہ ملتا تو بہوجن سماج پارٹی ڈےڑھ درجن سےٹوںمےں سمٹ کر نہ رہ جاتی۔اس سے بھی زےادہ حےران کن امر ےہ ہے کہ رپورٹوں اورمختلف تجزےوںکے مطابق اس باربی جے پی کو مسلمانوںکابھی اچھا خاصاووٹ ملاہے۔اگرچہ اس بات سے انکار نہےں کےاجاسکتاکہ مسلمانوںکا رجحان سماج وادی اور بہوجن سماج پارٹی کی طرف نسبتاً زےادہ تھا اوربڑی تعداد مےں انھوںنے ان پارٹےوںکو ووٹ بھی دےا مگراےسا لگتاہے کہ اس بارمسلمانوںنے بھارےہ جنتاپارٹی کو بھی نظراندازنہےںکےا۔حالانکہ بی جے پی نے اترپردےش کی 403سےٹوں مےں سے اےک سےٹ پر بھی کسی مسلمان کو اپنا امےدوار نہےں بناےا،لےکن مسلمانوں نے اس اےشوسے چشم پوشی برتی۔جن لوگوںکا خےال ہے کہ بی جے پی کومسلمانوںکا ووٹ ملا ہے ، ان کی اےک دلےل ےہ ہے کہ بعض اےسی سےٹوںسے بی جے پی کے امےدوار کامےاب ہوئے جہاں مسلمان نہ صرف اکثرےت مےں ہےں بلکہ ان کے ووٹ کے بناکوئی امےدوار فتحےاب نہےں ہوسکتا۔ جےساکہ کندرکی کی سےٹ پر دولاکھ سے زےادہ مسلم ووٹ ہےں۔ےہاں قرےب 30ہزار مسلم ووٹ بی جے پی امےدوار کوحاصل ہواہے، جس کے سب اس کی کامےابی ےقےنی ہوگئی۔اگرمسلمان ووٹ نہ دےتے تو اس سےٹ پر کسی بھی صورت مےں بی جے پی کا امےدوار کامےاب نہےں ہوسکتا تھا۔تجزےہ نگاروںکا خےال ہے کہ دےوبند سےٹ پر بھی بی جے پی کواچھا خاصا مسلم ووٹ ملا ہے، خود بھاجپائی لےڈران اس کے معترف ہےں۔ بعض اےسے مقامات پربی جے پی کو کامےابی حاصل ہوئی جہاں اگرچہ مسلمان اقلےت مےں ہےںمگر ان کے ووٹ کے بناکسی پارٹی کا امےدوار کامےاب نہےں ہوسکتا۔ےعنی ان سےٹوںپر بی جے پی اور اےس پی بی اےس پی کے سخت مقابلے مےںمسلم ووٹرس کا رجحان جس طرف ہوجاتا ہے، وہی کامےاب ہوجاتاہے۔اےسی سےٹوں پر بی جے پی امےدوار کی جےت مسلم ووٹوں کے بنا ممکن نہےں ہے ۔جن سےٹوں پر بھارتےہ جنتا پارٹی کومسلمانوںنے ووٹ دےا ، ان مےں دےوبند،مےراپور،غازی آبادشہر، صاحب آباد،کانٹھ،رامپور منہاران،چاندپور، دھامپور ، تھانہ بھون باغپت، گنگوہ،مرادآبادشہر، نورپور،بداےوں،شےخوپور، سےتاپور،الہ آبادپچھم،کانپور، بنارس، غازی پور، جھانسی، کاندھلہ،شاملی، علےگڑھ شہر،بلند شہر اور اےٹہ کے نام خاص طورپر قابلِ ذکر ہےں۔ان سےٹوں کے علاوہ بھی متعددسےٹوں پر بی جے پی کومسلمانوں کے ووٹ دےنے کی بات کہی جارہی ہے۔بھارتےہ جنتا پارٹی کی طرف مسلمانوںکے اس رجحان کی غااےک وجہ ےہ ہوسکتی ہے کہ وقت کے ساتھ مسلمان اب تمام سےاسی پارٹےوںکو وسےع تناظر مےں دےکھنے کی کوشش کررہے ہےںاور وہ ےہ سمجھ رہے ہےں کہ بھارتےہ جتنا پارٹی بھی اسی طرح سےاسی پارٹی ہے جس دوسری سےاسی پارٹےاں ہےںبلکہ بہت سے مسلمانوںکا فی الوقت بھارتےہ جنتا پارٹی پر دوسری سےاسی پارٹےوںکے مقابلے مےں زےادہ اعتماد ہے ،ممکن ہے کہ بعض مسلمانوںکو بی جے پی کا ےہ نعرہ ” سب کا ساتھ سب کا وکاس“ اچھا لگ رہا ہو ۔ حقےقت مےں ےہ نعرہ بڑا موثر اور جامع ہے۔اگرےہ نعرہ حقےقت بن جائے تو پورے ملک اور ملک کے تمام باشندگان کے لےے سودمند ثابت ہوگا۔مسلمانوںکو ترقی کی ضرورت ہے، وہ آزاد ی کے بعد سے مسلسل پچھڑرہے ہےں،سےاسی پارٹےاں ان سے وعدے تو کرتی ہےں مگر انتخابات جےتنے کے بعد انھےں نظرانداز کردےتی ہےں جس کے باعث وہ روز بروز پسماندگی کے شکار ہوتے جارہے ہےں۔اب مسلمانوںکو اےسی سرکاروںکی ضرورت ہے جو سب کے ساتھ انصاف اور برابری کا معاملہ کرےں، کسی کے ساتھ کوئی تفرےق نہ برتےں۔جو سرکار بھی اےسا کرے گی ، مسلمانوںکے نزدےک وہی بہتر خےال کی جائے گی۔ اگر بی جے پی سرکار مےں مسلمانوں کو ترقی ہوئی تو آگے چل کر ےقےنا نہ صرف اترپردےش مےںبلکہ پورے ملک مےں مسلمان اور زےادہ تعداد مےں بی جے پی کوووٹ دےں گے۔اگر درجنوں سےٹوںپر بھارتےہ جنتا پارٹی کو مسلم ووٹ ملا ہے ، تو اس کی وجہ ےہ بھی ہوسکتی ہے کہ مسلمانوںکی کئی جماعتےں مسلمانوں کے درمےان بھاجپاکے لےے برسوںسے کوششےں کررہی ہےںجن مےں اےک ”جماعت علماءہند“ ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس جماعت کے ساتھ ےوپی مےںقرےب 500علما ءہےںجنھوںنے انتخابی سرگرمےوںمےں بڑھ چڑھ کرحصہ لےا اورمولانا صہےب قاسمی کی قےادت مےں بی جے پی کے لےے راہ ہموار کی۔جماعت علماءہند نے الےکشن سے چھ ماہ قبل ےہ منصوبہ بناےا تھا کہ اترپردےش کے ہر مسلم بوتھ پر اس کا اےک کارکن اےسا ہوگا جو کسی بھی صورت مےں کم از کم 20سے25مسلم ووٹ بھاجپا کو دلائے گا۔اس منصوبے کو کامےاب بنانے کے لےے جماعت علماءہند کی پوری ٹےم نے بڑی حکمتِ عملی سے کام لےا اور سخت محنت کی، جس کے نتےجہ مےں اسے کامےابی بھی ملی ،کہےں اس ٹارگےٹ سے کئی گنا زےادہ ووٹ بھی ملے اورکہےں ٹارگےٹ سے کچھ کم ۔ اس طرح مسلمانوں کا اچھا خاصا ووٹ بھاجپا کو حاصل ہوگےا۔ جماعت علماءہند نے اےک اورکام ےہ کےا کہ اس نے خاص طورسے مسلم عورتوں کے درمےان بھاجپاکے لےے مہم چلائی، جس کے سبب بعض تجزےوںکے مطابق مسلم عورتوںکا بھی اچھا خاصا ووٹ اُسے حاصل ہوگےا۔اس حکمت عملی اور کوشش کے سبب بلاشک وشبہ مزےدکئی درجن سےٹےں بھاجپا کے کھاتے مےں چلی گئےں۔اس طرح الگ الگ طرےقوں سے بھاجپا کی سےٹوں مےں اضافہ ہوتا گےا اورجےت کا عدد 300 کو پار کرگےا۔مولانا صہےب قاسمی کی قےادت مےں چل رہی جماعت علمائے ہند لوک سبھا2014سے ہی سرگرم ہے۔اس نے کشمےر اور آسام مےں بھی منظم طورسے کام کےاہے۔آسام مےںجماعت علماءہند کے 72ہزار سے زائدممبران ہےں ۔ آسام مےںبڑی تعداد مےں مسلمانوںکے جڑنے کا ےہ نتےجہ سامنے آرہا ہے کہ وہاں بنگالی اور غےر بنگالی کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے ۔چھوٹے چھوٹے اور اےشوز بھی اس جماعت کے پےش نظررہے۔ اترپردےش کے حالےہ انتخابات کے دوران جماعت علمائے ہند کے ممبران وکارکنان نے مسلمانوںکو بتاےا کہ سماج وادی اور بہوجن سماج پارٹی نے مسلمانوںکا ووٹ تو لےاہے مگر ان کا کام نہےں کےا۔ اےس پی نے مسلمانوںکے کام کوصرف اعظم خاںتک محدود رکھا۔کےا اتنے بڑے صوبے مےںمحض اعظم خاں کے منصب سے تمام مسلمانوں کی کفالت ہوجاتی ہے۔ بی اےس پی کا بھی ےہی حال ہے کہ وہ اےک دومسلمانوںکو نواز کر ےہ تاثر دےنا چاہتی کہ وہ پورے مسلم طبقہ کوآگے بڑھا رہی ہے۔ اس کے برعکس انھوںنے بھارتےہ جنتا پارٹی کے بارے مےں ےہ خےال ظاہر کےا کہ بی جے پی تمام طبقات کو اےک ساتھ لے کر چلنے مےں ےقےن رکھتی ہے۔