SHARE

امرےکہ ہندستاں سے تےن گنا بڑا ہے مگر آج بھی اس کی آبادی صرف 35کروڑ ہے۔اگر تارےخ کے اوراق پلٹےں گے تو معلوم ہو گا کہ ہزاروں سال پہلے ہندستان مےں بھی وہی ہوا تھا۔آج کے جو لوگ ورناشرم کو مانتے ہےں (برہمن،چھترےا،وےشےا،شودرا)وہ مقامی لوگ نہےں ہےں وہ سب مشرق وسطی(اےران،عراق وغےرہ) سے آئے ہوے لوگ ہےں ےہاں آ کر انہوں نے مقامی لوگوں کو مار مار کر جنوب کی طرف بھگادےا۔آج جو مدراس، کرناٹک اور آندھراا مےں لوگ ہےں انکی اکثرےت مقامی لوگوں کی ہے۔آرےن جو مشرق وسطی سے ےہاں آ کر بس گئے انہےں کی طرح قاصم،محمود غزنوی،غوری اور بابر بھی ہندستان آئے اور انکی اکثرےت ےہاں بس گئی۔ہندستاں کے مسلمانوں،سکھوں اور عئسائےوں کی 98فےصدآبادی مقامی لوگوں کی ہے جو ورناشرم چھوڑ کر دوسرے مذہبوں مےں چلے گئے۔اس لئے کسی کو بھی ےہ کہنے کا حق نہےں ہے کہ ےہ لوگ غےر ہندستانی ہےں۔اگر کسی نے اےسا کہا تو اس سے پوچھنا ہو گا کہ اسکی جڑےں کہاں جا کر ملتی ہےں۔آر ےس ےس کو بھی اس بات پر غور کر نا چاہےے اور اپنی جڑےں تلاش کر نا چاہےے۔ہزاروں سال پہلے جو مقامی لوگ تھے وہ گوشت خور تھے جنہےں گائے ،بےل،بھےنس اور دےگر جانوروں مےن کوئی فرق نظر نہےں آ تا تھا۔صرف آرےن لوگوں کا اےک طبقہ (برہمن)سبزی خور تھے۔آج چونکہ برہمن ہر مےدان پر چھائے ہوے ہےں اس لئے وہ ےہ تاثر دے رہے ہےں کہ ہندوں کی اکثرےت سبزی خور ہے جبکہ ےہ سراسر غلط ہے۔سےکولر لوگوں کو ٹی وی ڈبےٹس مےں ان خےالات کا اظہار ضرور کر نا چاہےے ورنہ ےہ چھوٹا طبقہ خود کو ہندوں کا ترجمان بتا کر سب کو گمراہ کر دے گا۔ڈبےٹس مےں بتانا ہو گا کہ وہ سب وےسے ہی غےر ملکی ہےں جےسے وہ دوسروں کو کہہ رہے ہےں۔مسلمان جو بےس کروڑ ہےں انمےں سے صرف گےارہ کروڑبےف کھا تے ہےںجبکہ عےسائی چار کروڑ ، مقامی لوگ بےس کروڑ اور دلت چالےس کروڑ بےف کھا تے ہےں جبکہ مشکل سے صرف تےس کروڑ برہمن،چھترےااور وےشےا لوگ سبزی خور ہےں۔آجکل وہ بھی بےرونی ممالک جا کر بےف کھا تے ہےں۔ اس لئے بہتر ہے کہ مسلمان خاموش رہےں کےونکہ ےہ صرف مسلمانوں کا مسلہ نہےں ہے۔ےونےفارم سےول کوڈ مسلمانوں سے زےادہ ہندوں کی ہزاروں ذاتوں کا مسلہ ہے۔پہلے تو انہےں خود اپنی ہی ذاتوں کو منوانا ہو گا اور بعد مےں مسلمانوں ،عےسائےوں اور سکھوں سے بات کر نا ہو گا۔سب سے پہلے تو اےسا مسودہ بنا نا ہے جو تمام ہندوں کو منظور ہو ۔اس لئے اس پر بھی مسلمان خاموش رہےں تو بہتر ہے۔تےن طلاق کا مسلہ تمام مسلمانوں کا مسلہ نہےں ہے بلکہ ےہ تو صرف قرےبا بےس فےصد مسلمانوں کا مسلہ ہے جسے ہم آپس مےں بےٹھ کر انکی مداخلت سے پہلے سلجھا لےنا ہے۔اگر فرقہ پرست اقتدار مےں رہےں گے تو زےادہ سے زےادہ کےا ہو گا؟ بےف کھا نا بند کر دےا جائے گا،شادی بےاہ، طلاق،خلع۔کثرت ازواج۔وغےرہ پر حکومت کی منظوری لےنی ہو گی،لوڈ اسپےکر پر اذان بند ہو گی،دےنی اجتماعات بند ہونگے،اسکولوں اور مدرسوں مےں وندے ماترم لاگو ہو گا ، مدرسوں کی جدےد کاری کے نام پر مداخلت ہو گی،رام مندر پارلےمنٹ کی منظوری کے ساتھ بنے گا ،تبدےلی مذہب پر پابندی لگے گی۔رےزروےشن ختم کر دےا جائے گا ،نئے مساجد اور مدرسوں پر پابندی لگ جائے گی ،ہندو رسم و رواج سب پر لاگو ہو گا، ملک ہندو راشٹر بن جائے گا ،مفتےوں کے فتوں پر روک لگ جائے گی وغےرہ وغےرہ۔عام مسلمانوں کو مسلے کی سنگےنی کا احساس نہےں ہے مگر وہ کےوں خاموش ہےں جنکا دعوی ہے کہ وہ انبےاءکے وارث ہےں ،مسلمانوں کے لےڈر اور ترجمان ہےں ، قرآن و حدےث کو جاننے والے ہےں ؟انہےں تو ملت کی بد حالی کو لےکر بےقرار ہو جا نا چاہےے تھا اور تڑپ کر اپنے گھروں اور عبادت گاہوں سے باہر آ جانا چاہےے تھا۔ اپنوں سے مدد کی امےد نہےں اور غےروں سے رحم کی امےد نہےں۔ےو پی مےں فرقہ پرستوں کی کامےابی کے لئے کچھ حد تک ہم مسلمان بھی ذمہ دار ہےں۔کسی نے واٹس اپ پر لکھا ہے کہ مسلمانوں کے اےک مسلک نے کہا ماےا وتی کو ووٹ دو، دوسرے مسلک نے کہا کہ ےس پی کو ووٹ دو اور تےسرے مسلک نے کہا کہ اوےسی کو ووٹ دو جبکہ ہندوں کی اےک ذات نے کہا کہ بی جے پی کو ووٹ دو،دوسری ذات نے کہا بی جے پی کو ووٹ دو اور تےسری ذات نے کہا بی جے پی کو ووٹ دو ۔ اب سوچو کہ ذمہ دار کون ہےں ۔جب سےکولر لوگوں کو اندےشہ ہے کہ زعفرانی رنگ کی سونامی کچھ اس طرح کے حالات پےدا کرے گی تو انہےں چاہےے کہ وہ سب سے پہلے ہر رےاست مےں وہاں کے سےاسی حالات کے مد نظر متحد ہوں۔سےاست مےں نہ کوئی ہمےشہ کے لئے دوست ہو تا ہے اور نہ ہمےشہ کے لئے دشمن۔وہ تو صرف مفادات ہےں جنکی بنےاد پر دوستی اور دشمنی ہو تی ہے۔اگر آپ جانوروں کو بھی دےکھےں گے تو معلوم ہو گا کہ خطرے کے وقت وہ سب مل کر کھڑے ہو جا تے ہےںاور آپسی نفرت کو بھلا کر دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہےں۔آج زعفرانی سونامی کے سامنے سب سےکولر ذہےن رکھنے والے خطرے مےں ہےں۔لالو ےادو ،کانگرےس اور کمےو نسٹ لےڈر اس خطرے کو بھانپ چکے ہےں اور کھل کر اتحاد کا نعرہ لگا رہے ہےں۔اےسے مےں تمام مسلم جماعتوں اور اداروں کو چاہےے کہ وہ اس سلسلے مےں اہم رول ادا کرےں اور پہل کرےں۔غےر سےاسی مسلم قےادت تمام سےکولر ذہےن رکھنے والے لےڈروں سے پہلے پہل الگ الگ بات کرےں اور انہےں اس خطرے کا احساس دلائےں اور پھر انہےں ملا کر بٹھا نے کی کوشش کرےں۔ےہ کام ہمارے دانشور حضرات کر سکتے ہےں۔اس لئے ہر رےاست اور ہر شہر مےں صرف پندرہ حضرات ےہ سوچ لے کر بےٹھےں تو کام آسان ہو جائے گا۔کوشش ےہ ہو نی چاہےے کہ تمام سےکولر پارٹےوں کا گٹھ بندھن ہو اور ہر حلقے سے گٹھ بندھن کا اےک ہی امےدوار بی جے پی کے مقابلے مےں کھڑا ہو ۔