SHARE

اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے :ےا اےہا الذین آمنو اا تقو اللہ و کونو ا مع الصادقین (التوبہ : ۹۱۱)”اے اےمان والو! تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور سچ بولنے والوں مےں سے ہو جا ﺅ “آج مسلمان اپنی تہذیب و ثقافت اور اخلا ق و کر دار کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کے پیچھے آنکھ بند کر کے چلا جا رہا ہے ، مغرب سے کرنے والی برائی کو آسمانی تحفہ سمجھ کر بڑی فراخ دلی سے قبول کر رہا ہے ۔ ان کی پےر وی ہر خرافات مےں کی جا رہی ہے ، غلط کاری و بد تہذیبی مےں ان کی تقلید کی جا رہی ہے ۔ ہما رے معاشرے مےں جن رسموں کو رواج دےا جا رہا ان ہی مےں سے اےک رسم اپرےل فول کی بھی ہے جس نے بہت سے مسلم نو جوانوں کو اپنی لپےٹ مےں لے رکھا ہے ۔ اپریل فول مےں جن باتوں کا ارتکاب کےا جاتا ہے وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق حرام ہے ۔ جےسے جھوٹ ، دھوکہ ، فحش مذاق ، تمسخر ، وعدہ خلافی ، مکر و فرےب ، بددےانتی اور امانت مےں خےانت وغےرہ ےہ سب مذکورہ فرمان الٰہی اور فر مان رسول کی روشنی مےں نا جائز اور حرام ہے ۔ اپریل فول ماہ اپریل کی پہلی تاریخ کو جھوٹ بو ل کر اور دھوکہ دے کر اےک دوسرے کو بے و قوف بناےا جا تا ہے ۔ حدیث دےکھیئے ! حضرت ابن مسعود ؓ سے رواےت ہے رسول ﷺ نے فر ماےا ! بلا شبہ سچا ئی نےکی کی طرف رہنما ئی کر تی ہے اور نےکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور ےقینا آدمی سچ بو لتا رہتا ہے ، ےہاں تک کہ وہ اللہ کے ےہاں صدیق ( راست باز ) لکھ دےا جاتا ہے اور بلا شبہ جھوٹ نا فرمانی کی طرف رہنمائی کر تا ہے اور نا فرمانی جہنم کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور ےقینا آدمی جھوٹ بو لتا رہتا ہے ، ےہاں تک کہ وہ اللہ کے ےہاں جھوٹا لکھ دےا جاتا ہے ۔ (بخاری و مسلم )
اپریل فول انگلش کا اسم ہے ، اس کا معنیٰ اپریل کا احمق ہے اور حقیقت ےہ ہے کہ انگرےزوں مےں ےہ دستور ہے کہ پہلی اپریل مےں خلاف قےاس دوستوں کے نام مذاقا بے رنگ خط ، خالی لفافے مےں دل لگی کی چیزےں رکھ کر بھےجتے ہےں اخباروں مےں خلاف قےاس ےعنی جھوٹی خبرےں چھا پی جاتی ہے ، جو لوگ اےسے خطوط لے لےتے ہےں وہ اپریل فول ےعنی بے وقوف قرار پاتے ہےں ۔ اب ہمارے ملک ہندوستان مےں اس کا رواج ہو گےا ہے اور انہیں باتوں کو اپریل فول کہتے ہےں ۔ روشن خےال کے نام پر اس دن لوگ اےک دوسرے کو بے و قوف بناتے ہےں لےکن اس سے مسلمانوں کو بہر صورت بچنا چاہیئے ، اس مو قع پر لوگ جھوٹ اور مکر و فرےب کا کھلے عام سہارا لےتے ہےں ۔ جن کی تعلیمات اسلام مےں قطعی گنجائش نہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے ! سو تم بتوں کی پلےدی سے بچاکرو اور جھوٹی بات سے پرہےز کےا کرو (سورہ الحج : ۰۳ ) اللہ کے رسول کا فرمان ہےکہ جس نے کسی مومن کو نقصان پہنچاےا اس کے ساتھ فریب (دھوکہ ) کےا وہ ملعون ہے (جامع ترمذی ) نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ! وےل اللذی ےحدث با الحدیث لےضحک بہ القوم فےکذب ، ویل لہ ، ویل لہ ( ابو داﺅد)
©”اس شخص کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کو کو ئی جھوٹی بات بےان کرے تا کہ وہ ہنسےں ، اس کے لئے ہلاکت ہے ، اس کے لیئے ہلاکت ہے “اپریل فول کی رواےت ہے کہ وقتی اور عارضی طور پر لوگوں کو پرےشان کےا جائے ، مذہب اسلام مےں اپنی تعلیمات مےں قدم قدم پر اس بات کا حکم دےا کہ اےک مسلمان کی کسی نقل و حرکت ےا کسی کام ےا ادا سے دوسرے کو کسی بھی قسم کی جسمانی ذہنی ، نفسےاتی ےا مالی تکلیف نہ پہنچے ( ترمذی)
لوگ مذاق مےں تفریح کے لیئے جھوٹ بو لتے اور دھوکہ دےتے ہےں اور ےہ کہتے ہےں کہ ہم نے مذاق کےا ہے ۔ حالانکہ اللہ کے رسول ﷺ نے مذاق مےں جھوٹی باتےں کرنے سے منع فر ماےا ہے ۔ چنانچہ اےک حدیث پاک ارشاد ہے ! اےک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت مےں حاضر ہو ا اور عرض کےا ےا رسول اللہ مجھ مےں چار بری خصلتےں ہےں ۔ اول ےہ کہ بد کار ہوں ، دوم ےہ کہ چور ہوں ، سوم ےہ کہ شرابی ہوں ، چہارم ےہ کہ جھوٹ بو لتا ہوں ۔ ان چاروں برائےوں مےں سے جس کو بھی کہےں مےں آپ کی خاطر چھوڑ دوں ؟ آپ ﷺ نے فر ماےا جھوٹ بولنا چھوڑ دو ، تو اس نے آپ ﷺ سے سچ بولنے کا پختہ عہد کر لےا ۔ جب شام ہو ئی تو شراب پینے پر آمادہ ہو ا ، بد کاری کی خواہش دل مےں پےدا ہو ئی لےکن معا خےال آےا کہ اگر صبح نبی ﷺ نے پوچھ لےا تو کےا جواب دوں گا ۔ اگر ہاں کہوں گا تو شراب و زنا کی حد جا ری ہو گی اور نہ کہوں تو وعدہ خلافی ہو گی ۔ ےہ سب سوچ کر اس کام سے رک گےا ۔ اب اور راے بیتی تاریک اور گہری ہو گئی تو چو ری کے لئے گھر سے نکلا مگر خےال آےا کہ نبی کریم ﷺ کو صبح کو کےا جواب دوں گا اگر سچ بتاﺅں گا تو ہاتھ کاٹا جا ئے گا اگر انکار کروں گا تو معاہدہ کر چکا ہوں اس کے خلا ف ورزی ہوگی ۔ اس خےال کہ آتے ہی پھر وہ اس کا م سے باز آگےا ۔ صبح خدمت نبوی مےں خوش خوش دوڑتا ہوا آےا اورعرض کےا ےا رسول اللہ جھو ٹ نہ بولنے سے مےری چاروں خصلتےں چھوٹ گئیں ۔ ےہ سن کر نبی ﷺ بے حد خوش ہوئے (بخاری و مسلم )
معلوم ہوا کہ سچائی نےکوں کی جڑ ہے اور تمام بڑایﺅں کی قاطع ہےں ۔ من کذب علیٰ متعمد ا فلیتبو ا مقعد ہ من النار ( متفق علیہ ) “جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بو لے تو وہ ےقین کر لے کہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے “اہل اےمان اور سنجیدہ لوگوں کو اپریل فول کی بد تمیزےوں سے نہ صرف گرےز و پر ہیز کرنا چا ہیئے بلکہ اس کے خلاف نوجوانوں کو آگاہ بھی کرانا چا ہیئے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے ! انسان جو لفظ بھی بو لتا ہے تو اس کے پاس اےک نگراں فرشتہ تےار رہتا ہے (ق : ۸۱)
اسلام سچائی کی تعلیم دےتا ہے اور صرف سچ کو پسند کر تا ہے ۔ جھوٹ کو اس نے پسند نہیں کےا ، مسلمانوں کو اس سلسلے مےں ہداےت دی گئی ہے کہ سچائی کو اپنا ئےں اور جھوٹ سے بچےں ، فرےب دھوکہ دہی بھی بڑے گناہ ہےں قرآن و حدیث مےں جھوٹ ، فرےب اور دھوکہ دہی کی ممانعت اور ان کی وعیدیں تفصیل کے ساتھ ملتی ہےں ۔ ےہ اتنی واضح تعلیم ہے کہ تقریبا ً ہر مسلمان اس سے واقف ہے ، مسلمان کی شان ےہ ہے کہ ان امور سے مکمل اجتناب کرےں ان سے اسلامی کردار بھی مجروح ہو تا ہے اسلام مےں دےنی مذاق مےں بھی جھوٹ دھوکہ دہی اور فرےب کو پسند نہیں کےا اپریل فول کی جو رسم ہے اس کا بنےا دی جز جھوٹ ہے ۔
اس مےں فرےب دھوکہ دہی بھی شامل رہتی ہے ، بعض دفعہ اےسے جھوٹ بھی گڑھے جا تے ہےں جن سے دوسرا فریق اذیت اور تکلیف مےں مبتلا ہو سکتا ہے بلکہ ہو تا بھی ہے ۔ در اصل ےہ ےورپ سے آئی ہو ئی و باہ ہےں اور اس کی جو تاریخ بتا ئی جا رہی ہے اس کے مطابق ےہ بےہودہ رسم ہے جس مےں شمولےت اسلامی غےرت کے خلاف ہے مسلمانوں کے لئے کسی بھی صورت مےں اپرےل فول منانے کہ اجاجت نہیں ، اسلامی اور شرعی نقطئہ نظر سے ےہ رسم بد ترین گناہوں کا مجموعہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے ! اے اےمان والو! تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور بات صاف سیدھی کےا کرو ۔ اس سے اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو درست کر دےگا اور تمہارے گنا ہ معاف کر دے گا ۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فر ما بر داری کر تا رہے اس نے ےقینا بڑی کا مےابی حاصل کر لی ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور غےر کی تقلید سے بچا ئےں۔