SHARE
آج ہم اور آپ جس معاشرہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں اس میںبہت ساری غلط قسم کی رسمیں رائج ہیںاوروہ ایسی ہیں کہ اگر ان سے بروقت نبرد آزما نہ ہوا گیاتو مسلم معاشرہ کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا انہی میںسے ایک جہیزہے جسے ہم اور آپ تلک وغیرہ  کے نام سے موسوم کرتے ہیں ، جو سماج کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتا چلاجارہاہے ، اب تک مسلم سماج کی کتنی ہی بیٹیاں اور شریف زادیاں جہیز کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھائی جا چکی ہیں اور مادیت کی بڑھتی ہوئی ہوسناک خواہشات نہ جانے کتنی معصوم دوشیزاؤں کا خون روزانہ چوستی چلی جارہی ہے ۔
جہیزمسلم معاشرہ کی قدیم روایت کا حصہ کبھی نہیں رہی ہے یہ کمزور پڑتی اسلامی قدروں اور غالب ہوتے ہوئے فاسد معاشرتی فتنوں کی بطن سے پیدا ہونے والا ایک غیراخلاقی وجودہے جس کا جوازاس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ انسان ہر اس ذریعہ سے اپنی خواہشات کے دوزخ کا پیٹ بھر نا چاہتاہے جو اس کے بس میں ہے ۔
جہیز اس وقت مختلف معاشرتی خرابیوں اور تباہ کن فتنوں کی آماجگاہ بن چکا ہے ،اس کی تباہ کاریوں اور فتنہ سامانیوں سے پورا معا شرہ لرزرہاہے ، آئے دن پیش آنے والے دلدوزواقعات اور اخبارات کی سرخی بننے والی درد ناک خبریں ، انسانی غیرت وحمیت کی جبیں پر شرم ناک کلنک ہے اورباضمیر انسانوں کے لئے ایک سخت للکار ہے ۔
جو عورت اسلام کی نگا ہ میں سب سے بہترین متاع دنیا ہے جس کے وجود سے تصویر کائنات میں رنگ ہے اور جس کے سوزسے دنیا کا سازِدروں قائم ہے ، جو عظیم انسانی شخصیتوں کی اولین Inline image 1تربیت گاہ اور کاروبارحیات کا نصف بوجھ اپنے دوش ِناتواں پر اٹھانے والی ہے ، ایسی خاتون کو پرستاران ِہوس نے بارہا انتہائی بے دردی سے پاؤں تلے کچلاہے ۔
کیا ہمارے ذہنوں میںیہ سوال پید ا نہیں ہوتا کہ مذہب اسلام پر عمل پیرا ہونے کے باوجود معاشرہ میںاس برائی کے موجود ہونے کے کیا معنی ؟کیا ہم اب تک غیراسلامی رسوم وروایات سے چھٹکارا نہیں پاسکے ہیں ؟کیا مذہب اسلام اس کی اجازت دیتا ہے ؟ جہیزکے سبب ہونے والی اموات یا گھر میں عورت کو زدوکوب کئے جانے کے واقعے ، بڑی اور پختہ عمروں کو پہونچی ہوئی لڑکیوں کی شادی نہ ہونا ، لڑکی کی شادی میں والدین کا مقروض ہوکر پوری زندگی اس قرض کو ادا کرنے میں گزار دینا ، شادی کے بعد بھی آئے دن لڑکی کے سسرال والوں کی مانگوں سے عاجز رہنا ، غرباء کا لڑکی کی شادی کے لئے دوسروں سے بھیک مانگ کر روپے اور ساما ن جمع کر نا ، اور اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانوں کا شادی کی کر وفر میں تباہ ہوجانا ، اپنے چاروں طرف پھیلی یہ تلخ حقیقتیں کیا ہمارے ذہن ودماغ کو سکتے میں نہیں ڈال دیتی ہیں ؟
 چناں چہ ہمیں اپنے فعل سے اس بات کا ثبو ت دیناچاہئے کہ چنگاریاں ابھی ہما رے سماج کے افراد کی خاکستر میں باقی ہیں اور کارواں کے دل سے احساس ِزیاں نہیں گیاہے ، اور ہمیں یہ عزم مصمم کر نا چاہئے کہ معاشر ے سے اس ناسور کو ختم کریں گے اور اس کا آغاز اپنے گھروں سے کریں گے ، اور اپنے بیٹے کی شادی کرتے وقت ہر باپ کے پیش نظر یہ بات ہونی چاہئے کہ ہمیں بھی بیٹیوں کی شادی کر نی ہے ، اسی طرح معاشرہ سے اس جہیز کے رسم کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔
کچھ دنوں قبل چند عالم دین کی طرف سے یہ بیان بھی آیا کہ وہ ایسی شادیوں کا بائیکاٹ کریں گے اوروہاں نکاح پڑھانے نہیں جائیں گے جس شادی میں فضول خرچی ،جہیزاور نقد مطالبات کا معاملہ ہوگا ، ان کے اس جرئتمندانہ بیان کی پذیرائی ہو رہی ہے ساتھ ہی اس کی منظم کوشش بھی کی جائے کہ سماج میں اس کے خلاف ماحول بن سکے اور رائے عامہ ہموار ہو سکے ،اخیر میں اللہ تعالی سے دعاہے کہ ہمیں بھی اس کے سدِ باب کی توفیق عنایت فرمائے  آمین۔۔۔۔۔۔
                                     دیے جالانے کی رسمیں تو بہت پرانی ہوئیں
                                      ہمارے شہر میں  تو  دلہن جلائی  جاتی ہیں
SHARE
Next article